"درخت کی جڑیں اگرچہ نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں، مگر شاخوں کی سرسبزی، پھلوں کی شیرینی اور سایۂ دلنشیں کا تمام تر انحصار انہی پر ہوتا ہے۔" بعینہٖ انسان کا لاشعور بھی اُس پوشیدہ جڑ کی مانند ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا، مگر انسان کی شخصیت، افعال، جذبات اور رویّوں کی پوری عمارت اُسی کے سہارے قائم رہتی ہے۔ دنیا عموماً انسان کے اقوال و اعمال کو دیکھتی ہے، لیکن ان اعمال کے پسِ پردہ کارفرما محرکات اور باطنی اسباب پر بہت کم نگاہ جاتی ہے۔
علمِ نفسیات کے ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ انسان کی بے شمار عادات، فوری ردِّعمل، جذباتی کیفیات اور روزمرہ کے فیصلے اُن ذہنی عوامل کے زیرِ اثر ہوتے ہیں جو شعور کی سطح سے نیچے، لاشعور کی گہرائیوں میں خاموشی سے اپنا عمل جاری رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ کہنا کہ "انسان کے نوّے فی صد اعمال لاشعور کے تابع ہوتے ہیں" ایک قطعی اور مسلمہ سائنسی حقیقت نہیں، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ لاشعور انسانی شخصیت کی تشکیل میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔
فرض کیجیے، دو اشخاص کے سامنے یکساں الفاظ ادا کیے جائیں:
"آپ سے ایک غلطی سرزد ہوگئی ہے۔"
ایک شخص مسکراتے ہوئے اپنی لغزش تسلیم کر لیتا ہے، جبکہ دوسرا شدید برہمی، اضطراب اور غصے کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ بظاہر الفاظ تو دونوں نے ایک ہی سنے، پھر ردِّعمل میں اس قدر تفاوت کیوں؟
اس کا جواب اکثر اُن تجربات میں پوشیدہ ہوتا ہے جو برسوں سے اُن کے لاشعور میں محفوظ چلے آ رہے ہوتے ہیں۔ جس انسان نے بچپن ہی سے ہر لغزش پر تذلیل، تحقیر یا سخت ملامت کا سامنا کیا ہو، اُس کے نزدیک معمولی سی تنقید بھی اپنی عزت و وقار پر حملہ محسوس ہوتی ہے۔ گویا ماضی کے زخم حال کے رویّوں میں بولنے لگتے ہیں۔
اسی طرح اگر کسی معصوم بچے کے کانوں میں مسلسل یہ الفاظ انڈیلے جائیں:
"تم ناکارہ ہو... تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے... تمہارے بس کی کوئی بات نہیں..."
تو یہ جملے رفتہ رفتہ اُس کے لاشعور میں اس طرح نقش ہو جاتے ہیں کہ جوانی کی دہلیز پر پہنچ کر بھی وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین نہیں کر پاتا۔ کامیابی کے روشن مواقع بھی اُس کے سامنے دستک دیتے ہیں، مگر وہ خوف، تذبذب اور احساسِ کمتری کے سبب قدم آگے بڑھانے کی جرأت نہیں کر پاتا۔
قدیم اہلِ دانش بجا فرمایا کرتے تھے:
"جس کھیت میں کانٹے بوئے جائیں، وہاں گلستان کی آرزو محض خام خیالی ہے۔"
یہ محاورہ صرف زمین کی زراعت پر صادق نہیں آتا بلکہ انسانی ذہن کی آبیاری پر بھی یکساں منطبق ہوتا ہے۔
اس کے برعکس اگر ایک بچے کی پرورش محبت، شفقت، اعتماد، حوصلہ افزائی اور حسنِ ظن کے ماحول میں ہو، تو یہی احساسات اُس کی شخصیت کا سرمایہ بن جاتے ہیں۔ پھر جب زمانے کی سختیاں اُس کے دروازے پر دستک دیتی ہیں تو وہ مایوسی کے اندھیروں میں گم نہیں ہوتا بلکہ عزم و استقلال کا چراغ روشن رکھتا ہے۔
اسی حقیقت کی ترجمانی اس معروف مقولے میں ملتی ہے:
"جیسا بیج بوؤ گے، ویسا ہی ثمر پاؤ گے۔"
یہ محض کاشت کاری کا اصول نہیں بلکہ شخصیت سازی کا ازلی قانون بھی ہے۔
خاندانی زندگی اور معاشرتی تعلقات میں بھی اکثر ہماری نگاہ صرف ظاہر پر ٹھہرتی ہے۔ کوئی شوہر معمولی بات پر طیش میں آ جاتا ہے، کوئی بیوی ہر دم خوف و وسوسے میں مبتلا رہتی ہے، کوئی نوجوان تنہائی کو اپنا مقدر بنا لیتا ہے۔ معاشرہ جلدی سے ان پر فیصلے صادر کر دیتا ہے کہ یہ شخص بداخلاق، ضدی، مغرور یا ناشکرا ہے، حالانکہ ممکن ہے اُن کے لاشعور میں محرومیوں، ناکامیوں، تلخیوں اور ناگفتہ بہ حالات کی ایک طویل داستان دفن ہو۔
حکما نے کیا خوب فرمایا ہے:
"ہر زخم خون نہیں بہاتا، بعض زخم عمر بھر خاموش رہ کر بھی روح کو زخمی رکھتے ہیں۔"
نفسیات کی تعلیم یہ بھی ہے کہ لاشعور محض ماضی کا اسیر نہیں بلکہ مستقبل کا معمار بھی ہے۔ اگر انسان مسلسل نیک عادات اپنائے، مثبت افکار کو سینچے، شکرگزاری کو شعار بنائے، دعا کو سرمایۂ حیات سمجھے، مطالعۂ مفید کو معمول بنائے اور صالحین کی صحبت اختیار کرے تو یہی اوصاف آہستہ آہستہ اُس کے لاشعور کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پھر حسنِ اخلاق اُس کی طبیعت بن جاتا ہے اور خیر خواہی اُس کی شناخت۔
افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ایک اور بڑی کوتاہی یہ ہے کہ ہم کسی انسان کے ایک آدھ عمل کو دیکھ کر اُس کی پوری شخصیت کا فیصلہ صادر کر دیتے ہیں، حالانکہ اربابِ بصیرت ہمیشہ سے یہ نصیحت کرتے آئے ہیں:
"کسی کتاب کی قدر و قیمت اس کے سرورق سے نہیں، بلکہ اس کے مضامین سے ہوتی ہے۔"
بالکل اسی طرح کسی انسان کو بھی اُس کے ایک وقتی رویّے سے نہیں پرکھنا چاہیے، کیونکہ ہر رویّے کے پسِ منظر میں حالات، تجربات اور احساسات کی ایک طویل اور پیچیدہ داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔
اگر ہم واقعی اپنے گھروں کو سکون کا گہوارہ، اپنے معاشرے کو رحم و مروّت کا مظہر اور اپنے تعلقات کو محبت و اعتماد کی بنیاد پر استوار دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف ظاہری الفاظ اور اعمال پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ انسانی نفس کی اُن گہرائیوں تک بھی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں لاشعور خاموشی سے شخصیت کی تعمیر میں مصروف رہتا ہے۔
جب انسان لاشعور کی اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو اُس کے دل سے شکایت کا غبار چھٹنے لگتا ہے، غصے کی جگہ حلم و بردباری جنم لیتی ہے، نفرت کی جگہ ہمدردی فروغ پاتی ہے، اور ملامت کے بجائے اصلاح کا جذبہ بیدار ہو جاتا ہے۔
پس حقیقت یہی ہے کہ:
"دریا کی گہرائی کنارے پر کھڑے ہو کر نہیں ناپی جا سکتی، اور نہ ہی انسان کے باطن کی وسعت اُس کے ایک رویّے سے سمجھی جا سکتی ہے۔"
جب تک ہم لاشعور کی اس خاموش مگر فیصلہ کن دنیا کو جاننے کی سعی نہیں کریں گے، تب تک انسان کو صحیح معنوں میں سمجھنا ممکن نہ ہوگا۔ کیونکہ شخصیت کا اصل چہرہ ہمیشہ ظاہر میں نہیں، بلکہ اُس باطن میں پوشیدہ ہوتا ہے جہاں خاموش یادیں، فراموش صدمے، ان کہی تمنائیں اور نادیدہ احساسات اپنی ابدی حکمرانی قائم کیے بیٹھے ہوتے ہیں۔
