اردوو زبان اپنی وسعت اور شیرینی میں بے مثال ہے۔ ہماری روزمرہ گفتگو میں ایسی کئی ضرب الامثال (کہاوتیں) شامل ہیں جو ہم صدیوں سے سنتے اور دہراتے چلے آ رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک نہایت مشہور کہاوت ہے: "دھوبی کا کتا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔"
بادی النظر میں یہ جملہ بڑا عجیب محسوس ہوتا ہے۔ ایک دھوبی، جو اپنے کام کے لیے گدھوں کا استعمال کرتا ہے، اس کے پاس 'کتا' کیا کر رہا ہے؟ اور وہ کتا گھر یا گھاٹ کا کیوں نہیں ہوتا؟ آج ہم اسی معمے کو حل کریں گے اور اردو زبان کی تہہ میں چھپے ایک دلچسپ لسانی راز سے پردہ اٹھائیں گے۔
کتا یا کُتکا؟ (اصل لفظ کی بازیافت)
تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اصل لفظ ’کتا‘ (جانور) نہیں بلکہ ’کُتکا‘ (कुतका) ہے۔
یہ لفظ سنسکرت کے لفظ ’کُٹّک‘ (कुट्टक) سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے 'کوٹنے والا' یا 'مُوسل'۔ دیہی علاقوں میں دھوبی کپڑے دھونے کے لیے ایک بھاری لکڑی کے ڈنڈے یا मूसल (موسل/دستہ) کا استعمال کرتے ہیں، جسے ہندی میں ’कुतका‘ (کُتکا) کہا جاتا ہے۔
یہ کہاوت کیسے وجود میں آئی؟
پرانے وقتوں میں، جب دھوبی گھاٹ پر کپڑے دھویا کرتے تھے، تو وہ کپڑوں کی میل نکالنے کے لیے اسی بھاری ’کُتکا‘ (لکڑی کے ڈنڈے) کا استعمال کرتے تھے۔ یہ ڈنڈا وزنی ہوتا تھا کہ دھوبی کے لیے اسے روزانہ اپنے گھر سے گھاٹ تک لے جانا اور پھر واپس لانا ایک انتہائی مشقت طلب کام تھا۔
دوسری جانب، اگر وہ اسے گھاٹ پر ہی چھوڑ دیتے، تو چوری ہونے کا خدشہ بھی رہتا تھا۔ چنانچہ، دھوبی اس ’کُتکا‘ (کپڑے دھونے کا ڈنڈا) کو گھاٹ کے قریب ہی کسی خفیہ مقام یا جھاڑیوں میں چھپا کر رکھتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ کہاوت زبان زد عام ہو گئی کہ "دھوبی کا کُتکا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا"۔ یعنی وہ نہ تو گھر پہنچ پاتا تھا اور نہ ہی مستقل گھاٹ پر محفوظ رہتا تھا۔
لسانی بگاڑ اور وقت کا دھارا
زبانیں ارتقا پذیر ہوتی ہیں۔ جب یہ کہاوت ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچی، تو ’کُتکا‘ کا لفظ بولنے میں مشکل پیش آنے لگی یا شاید لوگوں نے اسے غلط فہمی میں ’کتا‘ سمجھ لیا۔ چونکہ ’کتا‘ ایک عام لفظ تھا، اس لیے لوگوں نے اسے ہی درست مان لیا اور اصل تاریخی و لسانی حوالہ کہیں پیچھے رہ گیا۔ آج ہم جس کہاوت کو سنتے ہیں، وہ اسی لسانی ارتقا (بگاڑ) کا نتیجہ ہے۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
اردو ادب اور عوامی بول چال میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں الفاظ اپنے اصل مفہوم سے ہٹ کر نئے روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ ضرب المثل نہ صرف ایک دھوکے کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ ہمارے اسلاف کے کام کرنے کے انداز اور ان کی مشکلات کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
اگر آپ کو یہ لسانی تحقیق دلچسپ لگی ہو، تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور اردو زبان کے ان انمول گوشوں کو اجاگر کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔
