رمضان المبارک کی ایک پُرنور و پُرفیض ساعت میں، جب آفتابِ نیم روز اپنی سوزندگی کے عروج پر تھا اور ریگزارِ عرب اپنی خاموش ہیبت میں کسی ازلی داستان کا منظر پیش کر رہا تھا، ایک مقیمِ دیارِ حجاز نے اپنے صاحبِ ثروت کفیل کے ہمراہ زکوٰۃ کی تقسیم کا قصد کیا۔ موٹر میں مہر بند لفافے رکھے گئے تھے، اور ہر لفافے میں پانچ ہزار ریال کی خطیر رقم موجود تھی۔ ان کا رُخ اُن ساحلی بستیوں کی جانب تھا جہاں افلاس کی پژمردگی اور محرومی کی ویرانی مدتوں سے خیمہ زن ہے۔
چند دیہاتِ متروک و غبار آلود سے گزر کر جب وہ شاہراہِ جدہ و جازان پر وارد ہوئے تو دُور نگاہوں کے افق پر ایک نہایت عجیب و رقت انگیز منظر نمودار ہوا۔ ایک ضعیف العمر مردِ درویش، جس کے چہرے پر مشقتِ سفر کی گرد اور جبین پر صداقتِ یقین کی روشنی جھلک رہی تھی، تپتے ہوئے صحرا میں تنِ تنہا رواں دواں تھا۔ عمر گویا ستر برس کی سرحد پار کر چکی تھی، مگر قامت میں عجب استقامت اور نگاہ میں ایک آسمانی انہماک جلوہ گر تھا۔
کفیل نے حیرت آمیز لہجے میں کہا: “یہ مردِ کہن سال اس لق و دق بیاباں میں کس جستجو میں سرگرداں ہے؟”
ڈرائیور نے گمان ظاہر کیا: “شاید کوئی یمنی مسافر ہے جو غیر قانونی راہوں سے سرزمینِ حجاز میں داخل ہوا ہو۔”
موٹر کو متوقف کیا گیا۔ وہ لوگ قریب پہنچے، سلام عرض کیا اور دریافت کیا: “اے بزرگ! کہاں سے تشریف لا رہے ہیں؟”
ضعیف مرد نے نہایت سادگی مگر وقار کے ساتھ جواب دیا: “یمن سے۔”
پھر سوال ہوا: “اور قصدِ سفر کہاں کا ہے؟”
فرمایا: “مکۂ مکرمہ… بیت اللہ کے دیدار اور عمرے کی سعادت کے لئے۔”
ان سے پوچھا گیا: “کیا قانونی طریقے سے داخل ہوئے ہو؟”
وہ تبسمِ رضا کے ساتھ بولے: “نہیں! میرے پاس اتنی استطاعت کہاں تھی؟ داخلے کے لئے دو ہزار ریال بطورِ ضمانت درکار تھے، جبکہ میری کل متاعِ حیات فقط دو سو ریال تھی۔ ایک سو سواری میں صرف ہو گئے اور ایک سو اب تک میرے پاس باقی ہیں۔ اس کے بعد سے یہ سفر پیدل طے کر رہا ہوں۔”
دریافت کیا گیا: “کتنے روز سے اس حالت میں رواں ہو؟”
کہنے لگے: “چھ دن سے مسلسل سفر میں ہوں۔”
پھر پوچھا گیا: “کیا روزے سے بھی ہو؟”
فرمایا: “جی ہاں، میں صائم ہوں۔”
یہ سننا تھا کہ حاضرین پر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ ریگِ تپاں، پیاس کی حدت، فاقہ کی شدت، سفر کی مشقت، اور اس پر صیام کی پابندی! گویا عزم و توکل کی ایک زندہ تفسیر ان کے سامنے کھڑی تھی۔
پھر سوال ہوا: “یہ تمام چوکیاں اور نگرانی کے مراکز تم نے کیسے عبور کر لئے؟”
بزرگ نے آسمان کی جانب نگاہ اٹھائی اور نہایت یقین افروز لہجے میں فرمایا: “اُس ذاتِ کبریا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں ہر چوکی کے پاس سے گزرا، مگر کسی نے مجھے روکا تک نہیں۔”
پھر گویا ہوئے: “ابھی کچھ دیر قبل ایک گشتی جماعت نے مجھے گرفتار بھی کیا تھا اور تھانے لے گئی، لیکن جب میں نے عرض کیا کہ میرا مقصد فقط بیت اللہ کی زیارت ہے، تو انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔”
یہ سن کر حاضرین کے دل لرز اٹھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ قدرتِ ایزدی نے اس مردِ خدا کے لئے زمین و زماں کے در وا کر دیئے ہوں اور فرشتے اس کے سفر کے نگہبان بن گئے ہوں۔
کفیل صاحب کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہوں نے بے اختیار زکوٰۃ کے دو لفافے اُس درویش صفت بزرگ کے ہاتھوں میں رکھ دیئے۔ بزرگ نے تشکر آمیز نگاہوں سے دیکھا، مگر انہیں یہ علم نہ تھا کہ ان لفافوں میں کتنی دولت پوشیدہ ہے۔
جب ان سے کہا گیا: “لفافے کھول کر رقم محفوظ کر لیجیے۔”
تو انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے لفافے کھولے۔ جیسے ہی نگاہ دس ہزار ریال پر پڑی، اُن کی کیفیت یکسر بدل گئی۔ وہ شدتِ حیرت و تاثّر سے وہیں گر پڑے۔ آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب امڈ آیا اور لبوں پر فقط یہی الفاظ جاری تھے:
“کیا یہ سب میرے لئے ہے؟ یہ ساری رقم… میرے لئے؟”
حاضرین نے گھبرا کر پانی کے چھینٹے دیئے۔ جب افاقہ ہوا تو وہ بھرائی ہوئی آواز میں گویا ہوئے:
“یمن میں میرا ایک مختصر سا گھر ہے۔ اس کے ساتھ ایک قطعۂ زمین تھا جسے میں نے فی سبیل اللہ وقف کر دیا۔ پھر اپنے بچوں کے ساتھ مل کر وہاں ایک مسجد کی تعمیر شروع کی۔ دیواریں اور چھت تو مکمل ہو گئیں، مگر فرش اور چند ضروری امور ابھی باقی تھے۔ میں اسی فکر میں مبتلا تھا کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی۔ آج اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو وسیلہ بنا کر میری حاجت پوری فرما دی۔”
یہ سننا تھا کہ سننے والوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہو گئیں۔ اُس لمحۂ روح پرور میں یوں محسوس ہوتا تھا گویا فضائے صحرا میں حضورِ اکرم ﷺ کا یہ ارشادِ مبارک گونج رہا ہو:
“جس کا مطمحِ نظر آخرت ہو، اللہ اُس کے قلب میں بے نیازی پیدا فرما دیتا ہے، اُس کے منتشر معاملات کو مجتمع کر دیتا ہے، اور دنیا ذلیل ہو کر اُس کے قدموں میں آ گرتی ہے۔ اور جس کی تمام تر فکر دنیا ہو، اللہ اُس کی محتاجی اُس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اُس کے معاملات پراگندہ فرما دیتا ہے، اور دنیا سے اُسے صرف وہی ملتا ہے جو اُس کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہو۔”
یہ کیفیت ابھی برقرار تھی کہ کفیل صاحب نے ایک اور اشارہ کیا اور مزید دو لفافے اُس مردِ درویش کے سپرد کر دیئے۔ اب مجموعی رقم بیس ہزار ریال ہو چکی تھی۔
بزرگ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی بند ہونے میں نہ آتی تھی۔ وہ بار بار ہاتھ اٹھا کر دعائیں دیتے اور رندھی ہوئی آواز میں یہی کہتے جاتے:
“اللہ نے مجھے پرندوں کی مانند رزق عطا فرمایا… جیسے آسمان سے رزق اُتر آیا ہو…”
واقعی وہ لمحہ سراپا ایمان افروز تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا گویا توکل، یقین، اخلاص اور محبتِ الٰہی نے انسانی صورت اختیار کر لی ہو۔ اسی لمحے رسولِ رحمت ﷺ کی وہ عظیم الشان حدیث ذہنوں میں ضیا فگن ہوئی:
“اگر تم اللہ پر ایسا بھروسہ کرو جیسا کہ اُس پر بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اسی طرح رزق عطا فرمائے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے؛ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام آسودہ و سیر ہو کر واپس آتے ہیں۔”
