روس کے یخ بستہ دیہات کی ایک خاموش و مغموم فضا میں ایک ضعیف دہقان اپنی علیل رفیقۂ حیات کو ایک ناتواں گھوڑے کی کشیدہ ارابہ میں بٹھائے شہرِ بعید کی سمت محوِ سفر تھا۔ ہوا میں سردی کی چبھن تھی اور راہ کی ویرانی گویا دل کی ویرانی کی تمثیل بنی ہوئی تھی۔

وہ مردِ کہنہ کار آہستہ آہستہ کلام کرنے لگا—بظاہر خود کلامی، مگر درحقیقت اعترافِ تقصیر کی وہ دبی دبی صدائیں تھیں جو برسہا برس اس کے سینے میں مدفون رہی تھیں۔ یہ عورت، جو اربعینِ عمر سے اس کی شریکِ حیات تھی، ہر عسر و یسر میں اس کے شانہ بشانہ رہی، کھیتوں کی مشقت ہو یا خانہ داری کی جاں گسل ذمہ داریاں، اس نے کبھی شکوۂ لب نہ کیا۔

مگر آج، اس طویل و پُرملال سفر میں، اس دہقان کے قلب پر ندامت کی ایک گراں بار تہہ جم گئی تھی۔ اسے اچانک احساس ہوا کہ اس نے کبھی اس مخلص رفیقہ کے ساتھ شفقت و ملاطفت کا برتاؤ نہ کیا، کبھی کلماتِ محبت کو زبان کی زینت نہ بنایا، کبھی وہ تبسمِ صادق پیش نہ کیا جو روح کو آسودگی بخشتا ہے۔

وہ زیرِ لب کہنے لگا:
“میں نے تم پر سختی کی، اور گردشِ ایام نے بھی تمہیں مہلتِ راحت نہ دی۔ میں روزمرہ کی الجھنوں میں ایسا الجھا رہا کہ تمہارے حق میں کلمۂ محبت بھی ادا نہ کر سکا۔ نہ وہ لحظۂ التفات دیا، نہ وہ مسکراہٹِ دلنواز، نہ وہ ساعتِ انس جس میں دلوں کا اتصال ہوتا ہے…”

یوں وہ راہ بھر اپنی تقصیرات کا ازالہ الفاظ کے پیرائے میں کرنے کی سعی کرتا رہا، وعدہ ہائے مستقبل کے قصر تعمیر کرتا رہا، خواب ہائے نشاط آفریں کے تانے بانے بنتا رہا—گویا وہ گزشتہ اربعینِ حیات کی محرومیوں کا کفارہ اسی لمحۂ ندامت میں ادا کرنا چاہتا ہو۔

بالآخر جب وہ شہرِ مقصود تک پہنچا، تو وہ ارابہ سے اتر کر اس نیت سے آگے بڑھا کہ پہلی بار اپنی رفیقۂ حیات کو بازوؤں میں اٹھا کر معالج کے حضور پیش کرے۔ مگر…

وہ جسم جو اس کی حیات کا ہم سفر تھا، اب سرد و خاموش ہو چکا تھا۔ سانس کی وہ مدھم لہر جو حیات کا پتہ دیتی ہے، راہ ہی میں معدوم ہو گئی تھی۔

وہ ایک بھی کلمۂ محبت نہ سن سکی…

یہیں اس حکایت کا ظاہری اختتام ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہیں سے انسان کی باطنی بیداری کا آغاز ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ قصہ ہمیں اُس دہلیز پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں شعور جاگتا تو ہے، مگر فرصتِ تدارک ہاتھ سے جا چکی ہوتی ہے۔

انسان کی یہ کیسی غفلت ہے کہ وہ قدرِ احباب کو ہمیشہ تأخیر کے اندھیرے میں تلاش کرتا ہے؟ کیوں وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ:

کلمۂ محبت اگر بروقت ادا ہو تو مرہم بن جاتا ہے، اور اگر مؤخر ہو جائے تو محض ندامت کی پژمردہ صدا رہ جاتا ہے۔
تحفۂ الفت اگر لمحۂ موجود میں پیش کیا جائے تو قیمتی ہوتا ہے، اور اگر وقت گزر جائے تو خزائن بھی بے وقعت ٹھہرتے ہیں۔
معذرت اگر حیات کے دوران ہو تو دلوں کو جوڑ دیتی ہے، اور اگر مزاروں پر پیش کی جائے تو محض رسمِ افسوس رہ جاتی ہے۔

انسان اپنی حیات کو گویا ایک مخزن سمجھ کر محبت کو مؤخر کرتا رہتا ہے، حالانکہ حیات کوئی مخزن نہیں، بلکہ ایک لمحۂ رواں ہے—جو “ابھی” کے سوا کسی اور زمانے میں دستیاب نہیں۔

وہ مسرت کو مؤخر کرتا ہے، عفو کو ملتوی کرتا ہے، اور محبت کو مقید رکھتا ہے، اس گمان میں کہ “بعد” بھی کوئی شے ہے…

مگر حقیقت یہ ہے کہ “بعد” اکثر سراب ثابت ہوتا ہے۔

محبت دراصل ایک ایسا قرض ہے جو حیات انسان سے بہرحال وصول کرتی ہے—یا تو تبسم کی صورت میں، یا پھر اشکِ ندامت کی شکل میں۔

پس اگر کسی کو عزت دینی ہو تو ابھی دے دو،
اگر کسی سے محبت کرنی ہو تو اسی ساعت کر لو،
اگر کسی کو معاف کرنا ہو تو اسی لمحہ درگزر کر جاؤ۔

کیونکہ حیات کے سب سے بیش قیمت لمحات وہی ہیں جو اس وقت تمہارے قبضۂ اختیار میں ہیں۔ انہیں ضائع نہ کرو، بلکہ انہیں محبت کے نور سے منور کر دو۔

ایسا نہ ہو کہ ایک دن تمہیں حسرت کے عالم میں یہ کہنا پڑے:
“کاش… میں نے یہ سب اُس وقت کہہ دیا ہوتا!”

یاد رکھو—
بروقت عطا کی گئی محبت مسرت میں ڈھل جاتی ہے،
اور مؤخر کی گئی محبت ہمیشہ حسرت و ندامت کا عنوان بن جاتی ہے۔