ایک زمانہ تھا کہ ایک صاحبِ خانہ اور اُن کی رفیقۂ حیات کو سیاحتِ عجائبِ قدرت کا ایسا سودا لاحق ہوا کہ وہ دیارِ افریقہ کے پُرہیبت جنگلات کی جانب عازمِ سفر ہوئے، تا کہ حیاتِ وحش کی نادر جلوہ گری کو قرب سے ملاحظہ کر سکیں۔
 جنگل کی فضا میں ایک عجیب سا سکوت طاری تھا؛ کہیں دور کسی نامعلوم پرندے کی آواز گونجتی اور درختوں کے فلک بوس قامت سایہ ہائے ہیبت ناک زمین پر بچھا دیتے۔

یہ دونوں زوجین ابھی اس فطری منظر کی رعنائی میں محوِ تماشہ تھے کہ ناگہاں جھاڑیوں کے عقب سے ایک ہولناک غراہٹ سنائی دی۔ ابھی وہ اس صدا کے ماخذ کا تعین بھی نہ کر پائے تھے کہ ایک جثیم الجثہ، دریدہ دہن اور نہایت بھوکا شیر اپنی تمام تر ہیبت و جلال کے ساتھ اُن کے روبرو نمودار ہو گیا۔
اس کی آنکھوں میں بھوک کی سرخی تھی اور اس کے قدم آہستہ آہستہ اُن کی سمت بڑھ رہے تھے۔

بیوی پر تو ایسی دہشت طاری ہوئی کہ گویا رگ و پے میں خون کی گردش ہی موقوف ہو گئی ہو، اور شوہر کا حال بھی کچھ کم مضطرب نہ تھا۔ مگر عین اسی لمحے اس مردِ خانہ نے ایک نہایت عجیب حرکت کی۔ اس نے سکونِ قلب کے ساتھ اپنا سفری بیگ کھولا، اس میں سے اپنے دوڑنے والے جوتے برآمد کیے اور نہایت انہماک سے اُنہیں زیبِ پا کرنے لگا۔

بیوی نے یہ منظر دیکھا تو حیرت و استعجاب کے عالم میں چیخ اٹھی:
“اے مردِ بےخرد! تمہیں کیا جنون لاحق ہو گیا ہے؟ کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ ان جوتوں کے بل پر تم اس خونخوار شیر سے سبقت لے جاؤ گے؟”

شوہر نے نہایت متانت سے جوتوں کے تسمے کس کر باندھے، ایک عمیق سانس لی، اور بڑے وقار کے ساتھ اپنی زوجۂ محترمہ کی جانب نظر اٹھا کر بولا:
“اے عزیزۂ جان! تمہاری تشویش بجا، مگر تم نے ایک لطیف نکتہ فراموش کر دیا ہے۔ مجھے اس درندۂ خون آشام سے زیادہ تیز دوڑنے کی قطعاً حاجت نہیں۔”

پھر اُس نے قدرے توقف کیا، لبوں پر ایک معنی خیز تبسم ابھرا، اور نہایت سکون سے فرمایا:
“مجھے تو فقط تم سے زیادہ تیز دوڑنا ہے۔”

یہ سن کر بیوی کی حیرت دوچند ہو گئی، اور اگر اُس وقت شیر کو انسانی زبان سمجھنے کی قدرت ہوتی تو شاید وہ بھی اس لطیف حکمت پر قہقہہ لگائے بغیر نہ رہتا۔

یوں اس جنگل کے پُرہیبت سکوت میں خوف، حکمت اور شوہر کی خودغرضانہ ذہانت کا ایک ایسا دل چسپ باب رقم ہوا جسے سن کر سامعین آج تک ہنسی ضبط نہیں کر پاتے۔ 🦁🏃‍♂️🏃‍♀️😂