ایک عجمی بادشاہ، جو عمر کی زوال پذیری اور مرض کی شدت کے شکنجے میں اس قدر محصور تھا کہ حیات کے روشن سائے اس سے محروم ہو چکے تھے، اپنی ملکوتی و دنیاوی خواہشات کے بوجھ تلے دب کر خاموشی کے سمندر میں ڈوب رہا تھا۔ ایک دن اس کے وفادار سپاہی نے حذر و احتیاط کے ساتھ قدم بڑھا کر بادشاہ کے کان میں سرگوشی کی:
"جنابِ والا، فلاں قلعہ فتح ہوا، دشمن زنجیروں میں گرفتار ہیں، اور اس کے زیرِ تسلط رعایا آپ کی فرمانبرداری کے تابناک سایہ فگن ہو چکی ہے۔"
بادشاہ نے ایک گہری، درد بھری، خاموش آہ کے ساتھ کہا:
"یہ مسرت میرے لیے لذتِ حیات نہیں، بلکہ میرے دشمنوں کے لیے غرور و سرور کا سبب ہے۔ افسوس کہ میری حیات اس امید پر گذری کہ میری تمنّا پوری ہو جائے، اور جب یہ تمنا پوری ہوئی تو اب اس امید کی کوئی بقا نہیں کہ میری گذشتہ حیات لوٹے یا نہ لوٹے۔"
اس نے اپنے اعضائے بدن سے وداعی کلمات ادا کیے:
"اے چشمِ بینا، سر سے رخصت ہو جاؤ۔ اے ہتھیلی و بازو، آپس میں جُدا ہو جاؤ۔ اے دستِ دوست، دشمن کی شادمانی کے مطابق میرے زوال پر رخصت ہو جاؤ۔ میں ساری حیات نادان رہا، تم نادانیاں ترک کرو اور عقل و تدبّر کے علم سے رہنمائی حاصل کرو۔"
بادشاہ کے لب و لہجے میں حکمتِ ابدی اور دنیاوی غرور کی تلخی یکجا تھی۔ وہ جانتا تھا کہ دنیاوی جاہ، دولت و عزت، خواہ کتنا بھی بلند و بالا ہوں، ہمیشہ فانی ہیں۔ اصل سرمایۂ حیات اعمالِ صالح، تقویٰ، اور دل کی صفا ہے۔ ورنہ حیات کے اختتام پر انسان کے ہاتھ میں صرف ندامت اور پچھتاوا رہ جائے گا۔
"اے دل کے فقیہ، اے عقل کے واعظ! دنیا کی زینتوں میں غرور مت کر، دنیاوی دولت میں اسیر نہ ہو، بلکہ دل کی مکاشفات میں فنا ہو جاؤ، اور حقیقتِ وجود کی روشنی سے دل کو منور کر۔ یہی راہِ حقیقت ہے، یہی طریقِ حیات ہے۔"
بادشاہ کی نگاہیں افلاک کی وسعت میں لٹکی رہیں، دل کی گہرائیوں میں سکون کی جستجو لیے، اور زبان خاموش مگر فکر و تدبّر کی علامت تھی۔ یوں دنیاوی رنگ و برق میں بھی روح نے سرورِ معنوی کے پانی پیے اور عقل و دل کے نور سے حیات کی حقیقت کو پہچانا۔
دن گزرتے گئے اور بادشاہ نے اپنے قلمرو میں امن و امان، عدل و انصاف، اور حکمتِ نبوی کی روشنی پھیلا دی۔ رعایا نے دل و جان سے اس کی ہدایت کا اتباع کیا اور ہر شخص نے اعمالِ صالح اور تقویٰ کے سنہرے ستون پر اپنی حیات استوار کی۔
یاد رکھو اے حکمت پسند و دلدار! دنیا کی تمام غرورآمیز نعمات فانی ہیں، علم و حکمت و صبر وہ خزانہ ہے جو فنا نہیں ہوتا۔ عقل کو مشعل بناؤ، نادانیاں ترک کرو، اور روحانی روشنی کے زیرِ سایہ حیات کے حقیقی رنگوں کو محسوس کرو۔ یہی وہ جنتِ دنیا ہے جس کی تلاش میں ہر سالک نے محنت کرنی ہے۔
