ایک گمنام سے دیہات کی مٹیالی فضا میں، تقدیر کے ہاتھوں فراموش کیا ہوا، ایک نادار حجام زیست پذیر تھا۔ نہ اس کے سر پر چھت کی پناہ تھی، نہ زندگی کی رفاقت میں زوجۂ حیات، نہ آغوشِ محبت میں اولاد کا سہارا۔ کل کائناتِ ملکیت اس کی ایک بوسیدہ چادر اور ایک گھسا ہوا تکیہ تھے، جنہیں وہ سرمایۂ حیات سمجھ کر سینے سے لگائے رکھتا تھا۔
روزِ روشن میں وہ کسی شجرِ کہن سال کے سائے تلے، شکستہ سی کرسی بچھا کر، خلقِ خدا کی حجامت کے فرائض سرانجام دیتا اور شام ڈھلے جب افق پر تاریکی کے سائے گہرے ہونے لگتے تو ایک متروک و مقفل مکتب کے دہانے پر اپنی چادر بچھا کر، تکیہ سرہانے رکھتا اور قناعت و فقر کی نیند سو جاتا۔
ایک روز، سپیدۂ سحر کے وقت، قدرت کی قہرمانی جلوہ گر ہوئی اور بستی پر سیلابِ بلا خیز ٹوٹ پڑا۔
آنکھ کھلی تو فضا شور و غوغا، آہ و بکا اور اضطرابِ ہولناک سے معمور تھی۔ ہر سمت انسانی فریادیں اور شکستہ امیدوں کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ وہ نادار حجام اٹھا اور مدرسے کے پہلو میں بنی آبی ٹینکی پر جا چڑھا۔ حسبِ عادت اپنی چادر بچھائی، تکیہ دیوار سے ٹکایا اور بے نیازی و سکون کے ساتھ دراز ہو کر تماشائے عالم کرنے لگا۔
نیچے بستی میں قیامتِ صغریٰ برپا تھی۔ کوئی اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سمیٹتا پھرتا تھا، کوئی نقدی کو سینے سے لگائے بھاگ رہا تھا، کوئی زر و زیور کی گٹھڑی سنبھالے مضطرب تھا، تو کوئی مویشیوں اور قیمتی اشیاء کے پیچھے حواس باختہ دوڑ رہا تھا۔
اسی ہنگامۂ آشوب میں ایک شخص نمودار ہوا، جس کے بازوؤں میں سونے کے زیورات، کپڑوں کی گٹھڑیاں اور زرِ کثیر سمٹا ہوا تھا۔ جب اس کی نظر اس حجامِ مفلس پر پڑی جو ٹینکی پر بے فکری سے دراز تھا تو غیظ و غضب سے اس کی زبان تلخ ہو گئی۔
کہنے لگا:
“اوئے! ساڈی دنیا لُٹ گئی اے، ساڈی جان خطرے وچ اے، تے تو ایتھے سکون نال لمّا پیا ہویا ایں؟”
یہ سن کر وہ حجام مسکرایا، آنکھوں میں عجب ٹھہراؤ اور لہجے میں فقر کی فتح مندی تھی۔ بولا:
“لالے! اج ای تے غربت دی چس آئی اے۔”
جب یہ حکایت میرے کانوں سے ٹکرائی تو لبوں پر بے ساختہ تبسم آ گیا، مگر اسی لمحے دل کے کسی گوشے میں ایک لرزہ خیز تصور انگڑائی لینے لگا۔ یوں محسوس ہوا جیسے یہ محض ایک دیہاتی قصہ نہیں بلکہ روزِ حساب کا ایک استعارہ ہے۔
سوچیے! جب روزِ محشر میزانِ عدل نصب ہو گی، تو ایک سمت وہ مفلس و قانع لوگ کھڑے ہوں گے، جن کے حساب میں محض دو وقت کی روٹی، ایک جوڑا لباس، حقوقُ اللہ اور حقوقُ العباد کی مختصر فہرست ہو گی۔
اور دوسری سمت وہ اصحابِ ثروت ہوں گے، جن کے نامۂ اعمال میں پلازے، کارخانے، دکانیں، گاڑیاں، محلات، سونا، زیورات، خدام، دولت کے انبار، حلال و حرام کی پیچیدہ گرہیں، عیش و عشرت کی داستانیں، زکوٰۃ کی کوتاہیاں اور حقوقُ العباد کی طویل فہرستیں درج ہوں گی۔
ان گنت نعمتوں کا حساب دیتے دیتے ان کے اجسام پسینے سے شرابور، قلوب خوفِ الٰہی سے لرزاں اور آنکھیں وحشت سے پھٹی ہوں گی۔
تب شاید وہی غریب، وہی نادار، وہی حجام صفت لوگ ایک طرف کھڑے یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے۔ ان کے چہروں پر عجیب سا سکون ہو گا، آنکھوں میں اطمینان کی ٹھنڈک اور دل کی گہرائیوں سے شاید یہی صدا ابھر رہی ہو گی:
“اج ای تے غربت دی چس آئی اے…”
─────••●◎●••─────
