اہلِ خرد و دانش کے ہاں یہ کہاوت مدتوں سے ضربُ المثل کا درجہ رکھتی ہے کہ
"تندرست رہنا ہو تو سر کو خنک اور قدموں کو گرم رکھو"۔
یہ محض عوامی مقولہ نہیں، بلکہ علمِ طبِ جدید بھی اس کی صداقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے پیدل چلنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ ذیابیطس، فشارِ خون، فرطِ کولیسٹرول، امراضِ قلب، ضعفِ استخوان، فالج اور دیگر مہلک علل و اسقام سے بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں اور ایک چاق و چوبند، فعال اور متوازن زندگی بسر کرتے ہیں۔

لیکن افسوس صد افسوس!
عہدِ حاضر کی برق رفتار، مشینی اور آسائش پرست زندگی نے انسان کو بظاہر سہولتیں عطا کیں، مگر حقیقت میں اسے تدریجاً مفلوج بنا دیا ہے۔ آج کے دور میں پیدل چلنا گویا ایک متروک عادت بن چکا ہے۔ پیشہ ورانہ مصروفیات اس نہج پر پہنچ چکی ہیں کہ اکثر افراد طلوعِ سحر سے غروبِ آفتاب تک کرسیوں سے چمٹے رہتے ہیں، اور اگر کہیں جانا آ بھی پڑے تو چند قدم کے فاصلے کو بھی موٹر سائیکل یا چار پہیوں کی قید میں طے کرنا باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔

اس طرزِ زیست کے نتائج فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے، بلکہ یہ خاموش زہر کی مانند رفتہ رفتہ جسم کو کھوکھلا کرتا ہے، اور پھر خاص طور پر ایامِ پیری میں اپنی ہولناک صورت دکھاتا ہے۔

آج معاشرے میں ایسے ضعیف العمر افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو ساٹھ برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنی بقیہ زندگی وہیل چیئر یا عصا کے سہارے گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اور دمِ واپسیں تک دوسروں کے رحم و کرم پر زندہ رہتے ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ آخر اس ابتری کی اصل وجہ کیا ہے؟

سبب یہ ہے کہ انسانی جسم کی تقریباً نصف عضلاتی قوت اور استخوانی ساخت ٹانگوں میں مرکوز ہوتی ہے۔ اسی طرح جسم کے پچاس فیصد اعصاب اور خون کی نالیاں بھی اسی حصے میں موجود ہیں۔ یوں کہیے کہ ٹانگیں گردشِ خون کا سب سے عظیم اور وسیع ترین نظام ہیں۔ ہماری پنڈلیاں درحقیقت دلِ ثانی کا کردار ادا کرتی ہیں؛ دل تو صاف شدہ خون کو جسم میں پمپ کرتا ہے، مگر پنڈلیاں نچلے دھڑ سے ناصاف خون کو دوبارہ قلب کی جانب رواں رکھتی ہیں۔

چنانچہ جب انسان چلتا ہے تو اس کے بدن میں دورانِ خون ہمہ وقت رواں اور متوازن رہتا ہے، ہر خلیہ خون کے ذریعے غذائیت اور آکسیجن سے سیراب ہوتا ہے، اور جسم تندرستی و توانائی سے لبریز رہتا ہے۔
برعکس اس کے، جب ٹانگوں کو حرکت سے محروم رکھا جائے تو دورانِ خون سست پڑ جاتا ہے، عضلات و اعصاب بے حس اور کمزور ہونے لگتے ہیں، مسلز سکڑ کر اپنی قوت کھونے لگتے ہیں اور دل پر خون پمپ کرنے کا بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

طبّی تحقیقات کے مطابق اگر کوئی شخص محض دو ہفتے تک اپنی ٹانگوں پر جسم کا بوجھ نہ ڈالے اور حرکت ترک کر دے تو اس کے عضلاتی و عصبی افعال میں کم از کم پانچ فیصد کمی واقع ہو جاتی ہے۔

یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ انسانی جسم میں غذا کو توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل کا تقریباً ستر فیصد حصہ ٹانگیں اور پاؤں سرانجام دیتے ہیں۔ جب یہ اعضا غیر متحرک ہو جائیں تو اضافی حرارے (کیلوریز) جسم میں جمع ہونے لگتے ہیں، جو موٹاپے، توند اور دیگر فاسد عوارض کی بنیاد بن جاتے ہیں۔

یاد رکھیے!
پچاس سے ساٹھ برس کی عمر کے بعد موٹاپا کم کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، خواہ انسان فاقہ کشی ہی کیوں نہ اختیار کر لے۔ اس عمر میں ٹانگوں کے کمزور عضلات بھاری جسم کا بوجھ اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں، نتیجتاً پہلے عصا کا سہارا لیا جاتا ہے، اور پھر وہیل چیئر مقدر بن جاتی ہے۔

اگر آپ بڑھاپے میں معذوری، محتاجی اور ذلت سے بچنا چاہتے ہیں تو پیدل چلنے کو اپنا شعار بنائیے، خواہ راستہ خارزار ہی کیوں نہ ہو۔

ٹانگوں کے عضلات کے سکڑ کر دبلا اور کمزور ہو جانے کے مرض کو طبّی اصطلاح میں سارکوپینیا (Sarcopenia) کہا جاتا ہے۔ چالیس یا پچاس برس کی عمر کے بعد اس کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں۔ ہزار نعمتیں کھا لی جائیں، لاکھ جتن کر لیے جائیں، کھوئے ہوئے عضلات واپس نہیں آتے—البتہ جو باقی بچ جائیں، ان کی کارکردگی کو حرکت اور مشق کے ذریعے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح ایک اور المیہ ہڈیوں کی کمزوری ہے۔ آپ نے اکثر مشاہدہ کیا ہوگا کہ معمر افراد کے گرنے سے ران کی ہڈی یا کولہے کا جوڑ ٹوٹ جاتا ہے، جو پھر کبھی مکمل طور پر جڑ نہیں پاتا، اور یوں باقی زندگی بستر یا وہیل چیئر کی نذر ہو جاتی ہے۔

اس موضوع پر تو پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے، مگر اہلِ فہم کے لیے یہی چند سطور کافی ہیں۔

اگر آپ صحت مند رہنا چاہتے ہیں، چالیس یا پچاس برس کے بعد مفلوج کر دینے والے خطرات سے بچنا چاہتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ چلیے، اپنے جسم کا بوجھ ٹانگوں پر ڈالیے، اپنے پیروں کو متحرک رکھیے۔
طبی ماہرین کے نزدیک پیدل چلنے کا معیار روزانہ دس ہزار قدم ہے، تاکہ ٹانگوں اور پیروں کے عضلات مضبوط، لچکدار اور توانا رہیں۔

یاد رکھیے، چالیس برس کے بعد انسان بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکا ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر یہ دیکھنا لاحاصل ہے کہ بال کتنے سفید ہو گئے یا چہرے پر کتنی جھریاں نمودار ہو چکی ہیں—اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ٹانگوں کے عضلات اور اعصاب کس قدر کمزور ہو چکے ہیں۔
یوں سمجھیے کہ بڑھاپا چہرے سے نہیں، ٹانگوں سے شروع ہوتا ہے، اور کمزوری نچلے دھڑ سے بالا تر بدن میں سرایت کرتی ہے۔

پس زیادہ سے زیادہ پیدل چلنے کی عادت اپنائیے۔ چھوٹے فاصلے پیدل طے کیجیے، گاڑی یا بائیک کو طویل سفر کے لیے رکھیے۔ اگر پیدل چلنا ناگوار ہو تو کم از کم سائیکل کو اپنا رفیق بنائیے۔

اسی طرح اپنے گھر کے بزرگوں کو بستر سے چمٹائے مت رکھیے۔ انہیں چلنے کی ترغیب دیجیے، سہارا دے کر ٹہلائیے، بیٹھ سکتے ہوں تو کھڑا کیجیے، کھڑے نہ ہو سکیں تو اٹھا کر بٹھائیے، ٹانگوں پر بوجھ ڈالنے اور حرکت کی عادت ڈالئے۔
جو چل پھر سکتے ہوں، انہیں ہرگز ساکت نہ ہونے دیجیے، بلکہ چھوٹے چھوٹے فاصلے پیدل طے کرنے کی تلقین کیجیے۔

یقین جانیے، یہی چند قدم کل کی محتاجی سے نجات کا ضامن بن سکتے ہیں۔