(عہدِ حاضر کی مخملیں غلامی)
ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں نجی تعلیمی ادارے اب محض مراکزِ تعلیم نہیں رہے، بلکہ یہ وہ کارپوریٹ عقوبت گاہیں اور منظم تعلیمی مافیا بن چکے ہیں جہاں زیورِ علم کی اوٹ میں انسانی وقار کو پامال کیا جاتا ہے۔ اولیائے طلبہ ان اداروں کی چمک دار سنگِ مرمر کی فرش پوشی، ہوابند کمروں اور نام نہاد انگلش میڈیم کے فریبِ بصری میں اپنی عمر بھر کی پونجی نچھاور کر دیتے ہیں۔ ملبوسِ طلبہ سے لے کر نوشتہ و دفتری لوازمات تک، ہر شے پر ان تعلیمی سوداگروں کا مخصوص نشان ثبت ہوتا ہے، جو درحقیقت والدین کی جیبوں پر قانونی ڈاکہ زنی کا پروانہ ہے۔
مگر اس مسحور کن جلوہ گری کے پسِ پردہ ایک ایسا طبقہ ہے جس کے لہو سے یہ شاندار محلات استوار کیے گئے ہیں — اور وہ ہے نجی تعلیمی اداروں کی مظلوم و مقہور معلمہ۔
یہ وہ سفید پوش طبقہ ہے جو معمارانِ قوم کی تخلیق کا خواب دیدۂ دل میں سجائے ان عمارات میں قدم رکھتا ہے، مگر اسے کیا خبر کہ دہلیز پار کرتے ہی اس کی عزتِ نفس، انسانی توقیر اور فطری حقوق سرِ بازار نیلام کر دیے جائیں گے۔
نظم و ضبط یا تسلسلِ جبر؟
یہ کیسا ضابطہ، کیسا قانون اور کیسی انسانی شریعت ہے جہاں ایک خاتون کو مسلسل سات ساعت تک قیامِ بے جا پر مجبور کیا جاتا ہے۔ قدموں میں ورم، صُلب میں دردِ ناقابلِ بیان، یا نسوانی ایام کی اذیت ناک کیفیات — مگر ان تعلیمی جاگیرداروں کے نزدیک ڈسپلن، معلمہ کے آرام، صحت اور وقار سے کہیں زیادہ مقدس ٹھہرتا ہے۔
وہ کرسی جو محض سامانِ خانہ نہیں بلکہ معلم کے تشخص اور احترام کی علامت ہونی چاہیے تھی، ان اداروں میں شجرِ ممنوعہ قرار دے دی گئی ہے۔ ہم کس رو سے نوخیز اذہان کو تعظیمِ استاد کا درس دیں، جب وہ اپنی بصارت سے اپنی معلمہ کو ایک مجبور مزدور کی مانند گھنٹوں ایستادہ، تھکن سے چور اور آہ و زاری کرتا دیکھتے ہیں؟
زمانی ناانصافی اور معاشی قتلِ ناحق
وقت کی پابندی کا میزان اس درجہ کج رو ہے کہ اگر معلمہ ایک لمحہ بھی تاخیر سے حاضر ہو تو اس کی قلیل المشاہرہ اجرت سے فوراً استقطاع کر لیا جاتا ہے، مگر جب فراغت کے بعد غیر نصابی ذمہ داریوں کے نام پر اسے ساعتوں مقید رکھا جاتا ہے تو ساعت گر کیوں معطل ہو جاتے ہیں؟
ستم بالائے ستم یہ کہ لاکھوں کی فیسیں سمیٹنے والے یہ مالکان سیکیورٹی کے عنوان تلے ابتدائی دو ماہ کی تنخواہ ضبط کر لیتے ہیں — گویا یہ درس گاہ نہیں بلکہ کوئی قید خانہ ہے جہاں قیدی کے فرار کا اندیشہ لاحق ہے۔
نفسیاتی اسارت اور خانگی سیاست کا عکس
تعلیمی اداروں میں متعین کوآرڈینیٹرز کا طرزِ عمل کسی مربی یا رہنما کا نہیں، بلکہ ان درندہ صفت کارندوں کا ہوتا ہے جن کا واحد نصب العین پرنسپل کی خوشنودی، ادارے کے خزانے کی افزائش اور اساتذہ کی زندگی کو جہنم زار بنانا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ آلاتِ رابطہ تک ضبط کر لیے جاتے ہیں۔ اگر کسی معلمہ کا طفلِ ناتواں بیمار ہو یا کوئی ہنگامی سانحہ درپیش آ جائے تو اسے اپنے اہلِ خانہ سے مکالمے تک کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کیا یہ واقعی مراکزِ تعلیم ہیں یا جبری مشقت کے لیبر کیمپ؟
خانگی حدود سے آگے پھیلی ہوئی زنجیریں
ایک معلمہ کی ذمہ داریاں درس گاہ کے دروازے پر اختتام پذیر نہیں ہوتیں۔ وہ گھر پہنچ کر بھی کاپیوں کے انبار، اسباق کی منصوبہ بندی اور رجسٹروں کے بوجھ تلے نیم شب تک کچلی جاتی ہے۔ اس کی نیند، سکونِ قلب اور خانگی زندگی اس استحصالی نظام کی نذر ہو جاتی ہے۔
اور اس جاں گسل ریاضت کے عوض جو حقیر معاوضہ اسے عطا کیا جاتا ہے، وہ ماہ کے نصف ایام بھی اس کی بنیادی احتیاجات کی کفالت سے قاصر رہتا ہے۔
بیداری کی ساعت
یہ نظامِ جبر اس لیے مستحکم ہے کہ ہم خاموش ہیں۔ یہ مالکان اس لیے فرعون صفت بنے بیٹھے ہیں کہ انہیں علم ہے کہ معاشی مجبوریوں نے ان معلمات کی زبانوں پر قفل ڈال رکھے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ جو معلمہ اس سفاک نظام کے خلاف لب کشائی کی جسارت کرے، اسے فی الفور ملازمت سے معزول کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان سیاسی اثر و رسوخ کے حامل اور ایک منظم مافیا کی صورت میں باہم پیوست ہیں، اس لیے ایک عام فرد ان کے نزدیک بے وقعت شے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
مگر یہ امر ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جو استاد خود ذہنی اذیت اور جسمانی کرب کا اسیر ہو، وہ نسلوں کی فکری آبیاری نہیں کر سکتا۔
اب ساعتِ بیداری آ پہنچی ہے کہ معمارانِ قوم اپنی زنجیروں کا ادراک کریں۔ جب تک یہ خاموش طبقہ ظلم کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہیں بنے گا، یہ مخملی غلامی ہمارے وجود کا گلا یوں ہی گھونٹتی رہے گی۔
تعلیم جب تجارت بن جائے تو لازم ہے کہ استاد کو دوبارہ انسان ثابت کیا جائے۔
تحریر و تحقیق
آفرین عاقب
تدوین بقلم
صوفی بھائی
