دوسری جنگِ عظیم کے اختتامِ ناگہانی پر جب افواجِ جرمنی کو مملکتِ فرانس سے بے دخل ہونے کا قطعی و حتمی فرمان موصول ہوا، تو جرمن سپہ سالار نے اپنے اعلیٰ رتبہ افسران کو ایک وسیع و عریض ہال میں طلب کیا اور نہایت سنجیدگی، وقار اور شکست خوردہ وقار کے ساتھ یوں گویا ہوا:
“حضراتِ گرامی!
یہ حقیقت اب پردۂ اخفا میں نہیں رکھی جا سکتی کہ ہم نازی لشکر کے علم بردار اس معرکۂ عظیم میں شکستِ فاحش سے دوچار ہو چکے ہیں، اور سرزمینِ فرانس اب ہمارے پنجۂ استبداد سے رِس کر نکل چکی ہے۔
یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ آئندہ پچاس برس کی مدت تک ہمیں اس دیارِ لطیف میں قدم رکھنے کی اجازت بھی میسر نہ آئے۔
پس میرا حکمِ آمرانہ یہ ہے کہ قبل اس کے کہ اقتدار ایک بار پھر اہلِ فرانس کے ہاتھوں میں منتقل ہو، شہرِ پیرس کے عجائب خانوں، نوادرات سے معمور نمایش گاہوں اور تہذیب و تمدن کے گہوارہ ہنر کدوں سے جو کچھ سمیٹا جا سکے، سمیٹ لیا جائے، تاکہ جب فرانسیسی اس شہر کا نظم و نسق سنبھالیں تو انہیں سوختہ و ویران پیرس کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے۔”
یہ حکم سنتے ہی افسرانِ جرمن نے گویا طوفانِ غارت گری برپا کر دیا۔ عجائب خانوں پر دھاوا بولا گیا اور اربوں ڈالر مالیت کے نادر و نایاب شاہکار اٹھا لیے گئے۔ ان نوادرات میں داؤدی کی مونا لیزا، فان گوخ کی شہرۂ آفاق مصوری، وینس ڈی ملو کا سنگِ مرمر میں تراشا ہوا لازوال پیکر اور نہ جانے کتنے ہی بے بدل فن پارے شامل تھے۔ الغرض، کوئی متاعِ ہنر ایسی نہ تھی جو اس یورش سے محفوظ رہتی۔
جب عجائب خانے خالی ہو چکے تو جرمن جرنیل نے تمام نوادرات ایک ریل گاڑی میں لدوا دیے اور حکم صادر کیا کہ یہ قافلۂ فن فوراً جرمنی روانہ کیا جائے۔
ریل گاڑی روانہ تو ہو گئی، مگر ابھی شہر کی حدود ہی سے باہر نہ نکلی تھی کہ اس کا انجن جواب دے گیا۔
ماہرینِ فنِ انجینئری طلب کیے گئے، انجن کی مرمت ہوئی، اور ریل پھر روانہ ہوئی۔
مگر دس ہی کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا کہ پہیے جام ہو گئے۔
پھر انجینئر آئے، مسئلہ رفع کیا گیا، ریل چلی، مگر چند ہی کوس آگے جا کر بوائلر پھٹ گیا۔
بوائلر درست ہوا، ریل نے پھر حرکت کی، مگر ابھی کچھ ہی دور پہنچی تھی کہ دباؤ پیدا کرنے والے پسٹن دم توڑ گئے۔
یوں یہ داستان بار بار دہرائی جاتی رہی۔
ریل گاڑی بارہا ناکارہ ہوتی رہی اور جرمن ماہرین اسے بارہا درست کرتے رہے، یہاں تک کہ فرانس کا اقتدار اہلِ فرانس کے سپرد ہو چکا، مگر وہ ریل گاڑی ابھی تک فرانس ہی کی سرحدوں میں محصور تھی۔
بالآخر ریل کے ڈرائیور کو پیغام موصول ہوا:
“مسٹر!
بے حد شکریہ، مگر اب یہ ریل جرمنی نہیں جائے گی۔
اسے واپس پیرس لے آیئے۔”
ڈرائیور نے مسکرا کر فضا میں ہاتھ لہرایا اور ریل کو واپس پیرس کی جانب موڑ دیا۔
جب ریل پیرس پہنچی تو فرانس کی پوری قیادت اس کے استقبال کے لیے صف آرا تھی۔ ڈرائیور پر گل پاشی کی گئی، اس کے ہاتھ میں مائیک تھمایا گیا۔
وہ بولا:
“جرمن گدھوں نے نوادرات تو ریل میں بھر دیے، مگر یہ بھول گئے کہ اس ریل کا ڈرائیور فرانسیسی ہے، اور اگر ڈرائیور نہ چاہے تو گاڑی کبھی منزل پر نہیں پہنچتی۔”
عرصہ دراز بعد ہالی وُڈ نے اسی ڈرائیور کے کردار پر مشہور فلم دی ٹرین تخلیق کی۔
قارئینِ کرام!
مختصر مگر معنی خیز حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگر ہم اپنی تاریخِ وطن پر نظر ڈالیں تو ہماری داستان بھی اس فلمی قصے سے کچھ کم نہیں۔
کہیں انجن جواب دے جاتا ہے، کہیں پہیے جام ہو جاتے ہیں، کبھی پسٹن پھٹتا ہے، کبھی بوائلر۔
اوّل روز سے آج تک بحران در بحران ہمارا مقدر بنا ہوا ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ اس ریل کا ڈرائیور کوئی اور ہے، جو اسے منزلِ مقصود تک پہنچنے نہیں دے رہا۔
ہم سب پر لازم ہے کہ اس ڈرائیور کو پہچانیں، اسے بے نقاب کریں، اور اس مقصد کے لیے پشتون، بلوچ، سندھی، پنجابی، مسلم لیگی، تحریکِ انصاف، بھٹوئی اور دیگر تمام لسانی و سیاسی رنگ اتار کر صرف اور صرف پاکستانی بن جائیں۔
خدارا!
پاکستانی بن جائیے، اس سے پیشتر کہ بہت دیر ہو جائے۔
اللہ اس ارضِ پاک کو تا ابد آباد، شاداب اور خوشحال رکھے۔
آمین یا ربّ العالم