زبردستی کا ولی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی دیارِ بعید میں ایک صاحبِ تاج و تخت فرمانروائی فرماتے تھے۔ ایک روز ناگہاں شاہی اصطبل سے ان کا نہایت نایاب اور قیمتی گھوڑا رفوچکر ہو گیا۔ بادشاہ نے برہم ہو کر لشکریوں کو حکم صادر فرمایا کہ گھوڑا فی الفور تلاش کیا جائے، ورنہ سخت مواخذہ ہوگا۔
سپاہی گھوڑے کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہوئے ایک گھنے جنگل میں جا نکلے۔ وہاں انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو سکون و انہماک کے ساتھ عبادت میں مشغول تھا، مگر ان نادانوں کو اس کی حالتِ نماز کا کچھ ادراک نہ ہو سکا۔ انہوں نے اس سے سوال کیا کہ کیا اس جنگل میں کسی گھوڑے کو جاتے دیکھا ہے؟ اس شخص نے کوئی جواب نہ دیا۔ کچھ دیر توقف کے بعد دوبارہ استفسار کیا گیا، مگر وہاں مکمل خاموشی طاری رہی۔ جب سپاہیوں نے تیسری بار سوال دہرانے کا قصد کیا، تو اس شخص نے دائیں جانب سلام پھیرا۔
سپاہیوں نے یہ گمان کر لیا کہ شاید وہ اشارۃً انہیں گھوڑے کا پتہ دے رہا ہے۔ وہ دائیں سمت بڑھے تو واقعی گھوڑا وہیں مل گیا۔ سپاہیوں نے اسے کرامت جانا اور دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ یہ شخص کوئی عام انسان نہیں بلکہ صاحبِ کشف و کرام، کوئی پہنچا ہوا بزرگ ہے جو بغیر دیکھے رازِ ہست و بود جان لیتا ہے۔
چند روز بعد محل سے سونے کے بیش قیمت برتن غائب ہونے لگے۔ بادشاہ نے اس بار نہایت سخت لہجے میں سپاہیوں کو حکم دیا کہ چور کو گرفتار کیا جائے، وگرنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔ سپاہی سخت پریشان ہوئے۔ اسی اثنا میں ایک سپاہی کو وہی جنگل والا شخص یاد آیا، جسے انہوں نے گھوڑے کی تلاش میں مددگار سمجھا تھا۔ اس نے بادشاہ سے عرض کیا کہ حضور، وہ شخص کوئی عام انسان نہیں بلکہ ولیِ کامل ہے، اگر حکم ہو تو وہ چور کا بھی سراغ لگا سکتا ہے۔
بادشاہ نے فوراً اس شخص کو دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ شخص دربار میں لایا گیا تو بادشاہ نے چوری کا ذکر کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ بتائے برتن کس نے چرائے ہیں۔ اس شخص نے عاجزی سے عرض کیا کہ حضور، میں کوئی ولی نہیں، ایک معمولی انسان ہوں، سپاہیوں کو محض غلط فہمی لاحق ہو گئی ہے۔
مگر سپاہیوں نے اصرار کیا کہ یہ اپنی ولایت کو مخفی رکھے ہوئے ہے۔ بادشاہ نے سخت تنبیہ کی کہ اگر اگلی صبح تک حقیقت ظاہر نہ ہوئی تو اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔
یہ سن کر وہ شخص سخت اضطراب میں مبتلا ہو گیا۔ شب کے آخری پہر خوفِ موت کے عالم میں اس نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی۔ اتفاق دیکھیے کہ چور درحقیقت محل کا ہی ایک ملازم تھا۔ اس نے سنا کہ بادشاہ نے ایک ولی کو مامور کیا ہے، چنانچہ وہ بھی تجسس میں وہاں پہنچ گیا۔ جب اس نے اس شخص کو مناجات کرتے دیکھا تو خوف سے اس کے دل پر لرزہ طاری ہو گیا۔ وہ فوراً اس کے قدموں میں گر پڑا اور اعترافِ جرم کرتے ہوئے التجا کی کہ اس کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔
یہ سن کر اس شخص کو گویا حوصلہ مل گیا۔ اس نے چور سے پوچھا کہ برتن کہاں چھپائے ہیں۔ اس نے بتایا کہ قبرستان میں ایک پرانے درخت کے نیچے دفن کیے گئے ہیں۔
صبح دربار میں اس شخص نے بادشاہ کو برتنوں کی جگہ بتا دی۔ سپاہیوں نے جا کر برتن برآمد کر لیے۔ بادشاہ بے حد خوش ہوا اور اسے شاہی ولی کا خطاب عطا کر کے محل میں قیام کا حکم دے دیا۔
اب اس شخص کی پریشانی دوچند ہو گئی کہ یہ سب محض اتفاق تھا، آئندہ کیا ہوگا؟ مگر وقت گزرتا گیا۔ ایک دن ہمسایہ ملک کا بادشاہ مہمان بن کر آیا۔ شاہِ وقت نے اپنے شاہی ولی کی خوب تعریف کی۔ مہمان بادشاہ متاثر ہوا اور اس سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔
ملاقات کے دوران اس نے امتحاناً سوال کیا کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہم نے کیا پیا ہے؟ وہ شخص سخت گھبرا گیا۔ اسی لمحے اس کی نظر اس بات پر پڑی کہ مہمان بادشاہ کا پاؤں جلتے ہوئے سگار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس نے بے اختیار بلند آواز میں کہا: حضور، سگار۔
مہمان بادشاہ نے سمجھا کہ یہی اس کے سوال کا جواب ہے، کیونکہ وہ واقعی سگار نوشی کر چکا تھا۔ وہ خوش ہوا اور اس شخص کو گلے لگا لیا، حتیٰ کہ بطورِ تحفہ اپنا قیمتی ہار بھی عنایت کر دیا۔
یہ شخص مزید خوف زدہ ہو گیا۔ کچھ دن بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ جان بوجھ کر ایسی حرکت کرے کہ یا تو قتل ہو جائے یا دربار سے نکال دیا جائے۔ چنانچہ ایک دن اس نے بھرے دربار میں بادشاہ کو طمانچہ رسید کر دیا۔ تاج سر سے گر پڑا۔ دربار میں کہرام مچ گیا۔
بادشاہ نے غصے میں سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس گستاخ کو قتل کر دیا جائے۔ اسی لمحے وزیر نے تاج اٹھاتے ہوئے چیخ ماری کہ تاج میں سانپ لپٹا ہوا ہے۔ بادشاہ نے سمجھا کہ اس شخص نے جان بچانے کے لیے تاج گرایا تھا۔ غصہ خوشی میں بدل گیا اور وہ مزید نوازا گیا۔
آخرکار عید کا دن آیا۔ اعلان ہوا کہ عید کی نماز شاہی ولی پڑھائیں گے۔ میدان میں عارضی چھت لگائی گئی۔ اس شخص نے ارادہ کیا کہ نماز کے دوران فرار ہو جائے گا۔ جب سب سجدے میں گئے تو وہ نماز توڑ کر بھاگ نکلا۔ لوگوں نے اسے کرامت سمجھ کر اس کے پیچھے دوڑ لگا دی۔
اسی وقت وہ عارضی چھت زمین بوس ہو گئی۔ لوگوں نے یقین کر لیا کہ ولی صاحب کو پیشگی علم تھا۔ وہ اسے کندھوں پر اٹھا لائے۔
یوں اس شخص نے سمجھ لیا کہ شاید اس کی تقدیر ہی یہی ہے۔ اس نے اسے قبول کر لیا اور دوبارہ فرار کا خیال ترک کر دیا۔
