جان کے در پے، مگر مسیحا بن کر بیٹھنا
سب انسپکٹر صاحب نے اپنی مصروفیات کو گویا دو باقاعدہ حصّوں میں تقسیم کر رکھا ہے؛
اوّل حصّہ یہ کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت فرمائیں، ملکی قوانین کی پاسبانی کریں اور امنِ عامہ کے محافظ کہلائیں؛
اور دوم حصّہ،
جو بظاہر خفیہ مگر عملاً نہایت رواں ہے۔
ڈکیتی، چوری اور رہزنی کی وارداتوں میں پیش پیش رہیں۔
یعنی بیک وقت
جان کے در پے بھی رہیں، اور مسیحا بن کر بھی تشریف فرما ہوں۔
خبر تو آپ نے بھی دیکھی، سنی یا کم از کم سوشل میڈیا کے شور میں ضرور محسوس کی ہوگی کہ ایک حاضرِ سروس سب انسپکٹر صاحب، موٹر سائیکل پر جلوہ افروز، ایک راہ گیر کو پستول کا دل آویز نظارہ کرواتے ہیں، اسے لمحوں میں کنگال فرماتے ہیں، اور پھر فیاضی کا یہ عالم کہ موٹر سائیکل کی چابی بھی ساتھ لے اُڑتے ہیں،
تاکہ موصوف پیدل گھر واپس جائیں، جسمانی ورزش ہو، خون کی گردش تیز ہو، اور توانائی بحال رہے۔
کیسی اعلیٰ سطح کی فلاحی سوچ ہے،
دیکھیے، کتنا بھلا سوچ لیا!
توبہ توبہ!
یہ کیسی الم ناک صورتِ حال ہے کہ جنہیں محافظ مقرر کیا گیا، پہلے انہی کی نگرانی کا اہتمام درکار ٹھہرے۔
آخر یہ دیکھا ہی کیوں نہ جائے کہ یہ حضرات ایسے مکروہ اقدامات کی جانب مائل کیوں ہوتے ہیں؟
شاید،
نہیں، بلکہ یقیناً
ایسے متعدد مقامات ہوں گے جہاں وارداتیں محض چشم پوشی سے نہیں بلکہ بڑے بڑوں کی پشت پناہی اور باقاعدہ اجازت سے ڈالی جاتی ہوں۔
تو پھر ؎
پھر کہاں کا انصاف؟
کہاں کی رواداری؟
کہاں کی قانون سازی؟
اور کہاں کی قانونی چارہ جوئی؟
کوئی ایک دروازہ تو ہو جس پر مظلوم دستک دے سکے،
کوئی ایک چوکھٹ تو ہو جہاں فریاد رسائی ممکن ہو،
لیکن،
حاشا و کلا!
مظلوم جدھر کا رخ کرتا ہے، کفِ افسوس ملتا ہے، اور حیرت در حیرت کا مجسمہ بن کر رہ جاتا ہے کہ ؎
تھا ارادہ تری فریاد کریں حاکم سے
وہ بھی کم بخت ترا چاہنے والا نکلا
یہ طرزِ عمل نہ اسلام کا ہے، نہ کسی اسلامی معاشرے کی شان۔
لہٰذا ایسے اوچھے، گھناؤنے اور قبیح ہتھکنڈوں کی سرکوبی ناگزیر ہے، تاکہ جرائم پیشہ عناصر کو شکستِ فاش ہو۔
بلا تفریق و امتیاز، جس کے لیے شرعاً اور قانوناً جو سزا مقرر ہے، وہ نافذ کی جائے،
کہ یہی انسدادِ جرائم کا واحد اور آزمودہ نسخہ ہے۔
ورنہ آج صورتِ حال یہ ہے کہ جرم جڑ پکڑتا جا رہا ہے،
مجرم دیدہ دلیر ہوتے جا رہے ہیں،
اور مظلوم عدالتوں اور کچہریوں کے چکر کاٹتے کاٹتے اپنی عمرِ عزیز کا بیش بہا حصّہ اسی گرداب میں کھپا دیتا ہے؛
نہ جرم ختم ہوتا ہے، نہ مجرم سزا پاتا ہے،
البتہ مظلوم آہستہ آہستہ گھِس پِس کر خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔
یہ سب درحقیقت احکامِ اسلامی سے دوری اور تعلیماتِ نبویہ ﷺ سے انحراف کا منطقی نتیجہ ہے۔
اسی لیے صدا بلند ہوتی ہے ؎
ابھی بھی وقت ہے،
اگر سنبھلنا چاہو تو سنبھل جاؤ۔
ہماری عزت، ہمارا تحفظ، ہماری بقا اور ہماری ترقی،
سب آقا کریم ﷺ کے دامن سے وابستہ ہے۔
نبوی نظام
ہمارا مقتدا، ہمارا امام… بس!
جب یہ رشتہ ہم سے ٹوٹا، ہم گہرے کھڈ میں جا گرے؛
جہاں یہود و نصاریٰ کے سہاروں کو مضبوط سمجھ بیٹھے،
اور یہ خوش فہمی پال لی کہ شاید اسی کھائی سے کبھی نجات مل جائے گی۔
حالاں کہ ؎
بچو تقلیدِ مغرب سے، سنو اے ایشیا والو!
کہ مغرب کی طرف جاتے ہی سورج ڈوب جاتا ہے
جس راستے کو تم نے چُنا، اور جس رسی کو تم نے تھاما
وہ رسی نہایت کمزور،
اور وہ راستہ سخت نا ہموار ہے۔
✍🏻 ابو البیان القادری
16 دسمبر 2025ء
