آج پھر میں اس کے لیے چھپ کر ایک برگر لے آیا تھا۔
نَوْ خیْز دلہن تھی، اور اس عہدِکَمَر شِکَن مہنگائی میں،
وہ بھی پاکستان میں، مَعاش کی گاڑی گھسیٹنا کوئی طِفْلانَہ مشغلہ نہ تھا۔ حسابِ زر و مال بٹھایا، ضروریاتِ خانہ کو تولا، اخراجات کو چھانا؛ حاصلِ کلام یہ نکلا کہ بجٹ کی کل کائنات میں محض ایک برگر کی گنجائش باقی بچی تھی۔

سب کی خیر تھی،
                  مگر اماں…
                               ہائے اماں!

ہر موسمِ سرما میں وہ میرے لیے دیسی گھی میں تر کیے ہوئے پراٹھے تیار کیا کرتی تھیں، اور آج میں اسی اماں سے نظریں چرا کر، اپنی بیگم کے لیے ایک برگر لیے جا رہا تھا۔ ضمیر کی کسک، احساس کی خلش اور یادوں کی بازگشت دل کے ایوانوں میں شور برپا کیے ہوئے تھی۔

ابھی انہی منتشر خیالات کے ہجوم میں گم تھا کہ سامنے سے اماں نمودار ہو گئیں۔
ان کو دیکھتے ہی میرے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے۔ ہاتھ بے اختیار آگے بڑھا، اور میں نے مکڈونلڈ کا وہ کاغذی تھیلا ان کے سامنے رکھ دیا۔

“اماں… یہ میں آپ کے لیے لایا تھا۔”

انہوں نے مجھے گہری، نفوذ کرتی نگاہوں سے دیکھا،
     پھر لبوں پر ایسی مسکراہٹ آئی جو صدیوں کی شفقت کا خلاصہ تھی۔

بولیں:
“جاؤ… جس کے لیے لائے ہو، اُسے اسی محبت سے کھلا دو۔”

میں حیرت، ندامت اور شرمساری کے ملغوبے میں نگاہیں جھکا کر خاموش ہو گیا۔

تب اماں نے وہ بات کہی جو عمر بھر کے لیے روح میں نقش ہو گئی۔

“میں نے تجھے جنم دیا ہے۔
سخت سردیوں میں اپنی گرم شال تجھے اوڑھائی ہے۔
سخت گرمیوں میں تیرے حصے کا سورج اپنے ماتھے پر اٹھایا ہے۔
تیرے کورے دل میں ایثار، وفا اور پاسداری کا بیج بویا ہے۔

اور وہ،
          وہ اپنے میکے کی چھاؤں، اپنی ماں کی مامتا اور اپنے باپ کا سایہ چھوڑ کر تیرے آنگن میں آن بسی ہے۔
اب تیرا فرض ہے کہ تو اس پر بادلوں میں لپٹا سورج بن کر چمکے،
              ایسا سورج جو جلائے نہیں، فقط حرارت دے۔

اور سن…
          تیرے اس مکڈونلڈ سے کہیں بہتر برگر میں کل خود بنا کر تجھے کھلاؤں گی۔”

یہ کہہ کر اماں مسکراتی ہوئیں اپنے حجرے کی جانب روانہ ہو گئیں۔

میں دیر تک کھڑا رہا،
ان کے قدموں کے نشانوں کو تکتا،
اس گرم شال کی سلوٹوں کو دیکھتا رہا
جو عمر بھر میرے وجود کو ڈھانپے رہی تھیں۔

ماں…
یہ دنیا کی سب سے عظیم، سب سے مقدس اور سب سے بے مثال ہستی ہے۔ 🩷🩷