زمانۂ قدیم میں اطفال یا تو ننھیالی نسبت سے پہچانے جاتے تھے یا ددھیالی حوالوں سے۔
مگر اس عہدِ بےمہار میں آپ کو ایسے خوش نصیب (!) بچے بہ سہولت دستیاب ہوں گے جو نہ ننھیالی کہلائیں، نہ ددھیالی،
بلکہ سراسر موبائِلِیّے ہیں۔
اب نوزائیدہ کی گھُٹّی میں قَندِ مُصَفّا نہیں، اسمارٹ فون گُھلا ہوتا ہے۔ اِدھر طفلِ ناتمام نے پلک جھپکائی، اِدھر کلک ہوتے ہی کھچک کی صدائیں بلند ہوئیں،
اور سیلفیوں کی برکت سے منہ دکھائی ادا ہو گئی۔
وہ معصوم سا گُل گوتھنا، فلٹر دَر فلٹر کبھی بلی کے کان اور مونچھوں میں، کبھی بندر، کبھی بھالو اور کبھی کسی نایاب حیوانِ موہوم کی صورت میں اس قدر کیوٹ نظر آتا ہے،
کہ اصل چہرہ بغیر فلٹر محض ایک واجبی سا خاکہ محسوس ہوتا ہے۔
کبھی شِیر خوارانِ خدا، “اللّٰہ اللّٰہ” اور لوریوں کی مدھم نغمگی میں خوابِ ناز کے سپرد ہوتے تھے،
پھر ماؤں نے جن بابا، بھوت اور چڑیل کے ہولناک اساطیری بیانیے ایجاد کیے۔
اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ اوّل تو بچے سوتے ہی نہیں، اور اگر نیند آ بھی جائے تو موبائل تھامے، اسکرین پر انگلیاں نچاتے نچاتے غنودگی طاری ہوتی ہے۔
کِھلانے پِلانے کے باب میں تو گویا ایک مُعرکۂ آرا برپا رہتا تھا،
مائیں جان جوکھوں میں ڈال کر لُقمہ تَرسیل کرتیں۔
یہ عَقدہ بھی موبائل نے یوں حل کیا،
جیسے مارنِنگ شوز اور گوگل بابا کے مفت مشورے۔
اسکرین آن ہوئی نہیں کہ دہنِ طفل کشادہ،
جو چاہو، جتنا چاہو، ریڈی میڈ خوراک اِنڈیل (indel) کر دو،
بچہ نگلتا چلا جاتا ہے۔ اور ماں اپنی ادھوری قسطیں بھی بآسانی مکمل کر لیتی ہے۔
بعد ازاں طفل کو کھڑا کر کے ایک آدھ ٹُھمکا بھی لگوا دیا جاتا ہے، ٹک ٹاکی اسلوب پر۔۔۔۔۔
لیجیے!۔۔۔۔۔ نہ بدہضمی کا اندیشہ، نہ گرائپ واٹر کی حاجت، نہ پھکی کی نوبت۔
جوں جوں بچہ طفولیت کے مدارج طے کرتا ہے، “موبائل چھپا دوں گی!” اور “توڑ دوں گی!” جیسی وعیدیں سنائی دینے لگتی ہیں۔
مگر اطفال بخوبی جانتے ہیں کہ ماں اپنی ہر آفت سہہ سکتی ہے، موبائل پر آنچ نہیں آنے دے گی؛ آخر اگر ایک بھی واٹس ایپ پڑھنے سے رہ جائے، تو ایسے لگتا ہے جیسے کسی نیکی کی پوسٹ بروقت شیئر نہ ہو تو خلقِ خدا کا کتنا نقصان ہو جائے گا!
باقی رہی سہی کَسّر آن لائن شاپنگ اور ایزی لوڈ والوں کے خسارے نے پوری کر دینی ہے۔
پہلے جوان ہوتے بچوں بچیوں کے باعث،
ماؤں کی نیندیں حرام ہو جایا کرتی تھیں؛ اب کوڈِڈ اور لاکڈ موبائل دیکھ کر ایک ہول سا اُٹھنے لگتا ہے۔
گھر میں نِت نئے انداز شاید ہی دِکھائی نہ دیں، مگر فیس بک پر جلوہ گری عروج پر ہوتی ہے۔
اب تہوار بھی موبائل ہی پر منائے جاتے ہیں۔
گھر میں چاہے جنگ و جَدَل، تُو تُو میں میں پر پہنچی ہو، اور خانہ جنگی برپا ہو،
موبائلی دنیا میں محض پیار، محبت اور والہانہ پن جھلکتا ہے۔ لائکس اور کمنٹس کی بہار رہتی ہے؛ بہن بھائی ہفتوں ایک دوسرے کا دیدار نہ کریں، مگر اسٹیٹس ہر گھڑی چیک ضرور کرتے ہیں۔
نوجوانوں کی فرمائشیں اب گھڑیاں، کھلونے، عطر، کاسمیٹکس اور زیورات سے ہٹ کر صرف نت نئے ماڈلز کے اسمارٹ فون تک محدود ہو چکی ہیں۔
شوہر اپنے موبائل میں مُستغرِق، بیوی اپنی اسکرین میں مُنہَمِک؛ ایک ہاتھ سے کام، دوسرے سے سرچنگ،
بایاں ہاتھ تو ہمیشہ موبائل کے لیے ہی رہے گا۔
غالباً اسی کو کہتے ہیں کہ جس گھر میں وائی فائی کنکشن نہ ہو، وہاں قدم رکھنا بھی بوریت کا موجب ہوتا ہے۔
پہلے کسی کے ہاں قیام کو جاؤ تو کزنز خوش آمدید کہتے تھے؛ اب کہتے ہیں: “آؤ تو اپنا چارجر ساتھ لانا”،
یوں رشتے داری بھی تاروں اور سگنلز کی اسیر ہو چکی ہے۔
ایک ہی جگہ جمع ہو کر بھی سب اپنی اپنی الگ دنیا میں محو ہیں۔ فقط موبائِلِے ہیں، موبائِلِے…!
کیا ہیں ؟
موبائِلِے…!
