دولڑ کے ایک گوشۂ ناآباد کی کچی سڑک پر وہ دو شوخ و شریر نوجوان خراماں خراماں گامزن تھے کہ ناگہاں ان کی نگاہ اس منظرِ عجیب پر جا ٹھہری کہ دودھ کے بھاری بھرکم ڈبّے شہر کی جانب ترسیل کے لیے یکے بعد دیگرے گاڑی پر بار کیے جا رہے ہیں۔ گرد و نواح میں کوئی ذی روح نظر نہ آیا تو فطرتِ شرارت انگڑائی لینے لگی۔ چنانچہ انہوں نے بےدردی سے دو تنومند مینڈک اٹھائے اور نہایت عیّاری سے انہیں دودھ سے لبریز دو مختلف ڈبّوں میں ڈال کر ایسے غائب ہوئے گویا کبھی اس وادی میں قدم ہی نہ رکھا ہو۔ ڈبّے حسبِ دستور گاڑی پر رکھے گئے اور قافلہ شہر کی سمت روانہ ہو گیا۔
راہِ سفر میں پہلے ڈبّے کے مینڈک پر جب افتادِ ناگہانی آن پڑی تو اس کے دل میں وساوس نے بسیرا کر لیا۔ اس نے خود کلامی کی:
“وائے بدبختی! یہ کیسا قفسِ بلا ہے جس میں قید ہو گیا ہوں۔ یہ آہنی ڈھکن ایسا ثقیل و گراں ہے کہ اس کا جنبش میں آنا بھی محال ہے۔ نہ میں اس دودھ کے سیلاب میں کبھی شناوری کا خوگر رہا ہوں اور نہ اتنی مہلت ہے کہ پیندے تک جا کر پوری قوت سے اچھل کر نجات کی سبیل پیدا کر سکوں۔”
یوں حسرت و یاس کے گھٹاٹوپ اندھیروں نے اس کے حوصلے کی شمع گل کر دی۔ اس نے سعی و کوشش سے ہاتھ کھینچ لیا اور ہمت ہار بیٹھا۔ جب شہر پہنچ کر اس ڈبّے کا منہ کھولا گیا تو اس نحیف جان کی بےجان لاش دودھ کی سطح پر شناور پائی گئی، گویا شکست کی داستان خود بیان کر رہی ہو۔
دوسرے ڈبّے میں محبوس مینڈک پر بھی حالات کی سختی کم و بیش وہی تھی، مگر اس کی پیشانی پر عزم کی شکنیں تھیں اور دل میں استقلال کی حرارت۔ اس نے اپنے آپ سے کہا:
“یہ سچ ہے کہ اس فولادی ڈھکن کو میں ہٹا نہیں سکتا اور نہ اس میں کوئی رخنہ ڈال کر رہائی پا سکتا ہوں، کہ یہ اپنی مضبوطی میں ضرب المثل ہے۔ لیکن ربِ کریم کا شکر ہے کہ ایک ہنر مجھے عطا ہوا ہے، اور وہ ہے شناوری۔ جب تک سانس میں رمق ہے، میں تیرتا رہوں گا۔”
پس اس نے دودھ کے اس بےکراں سمندر میں ہاتھ پاؤں مارنے شروع کیے۔ گردشِ مسلسل، جدوجہدِ پیہم اور حرکتِ بےاماں کے نتیجے میں دودھ رفتہ رفتہ مکھن میں تبدیل ہونے لگا، یہاں تک کہ ایک ٹھوس گولا بن گیا۔ مینڈک نے اس پر تخت نشینی کی اور خود کو محفوظ پا لیا۔ جب ڈبّے کا منہ کھولا گیا تو وہ فاتحانہ جست لگا کر باہر آ کھڑا ہوا اور گویا ہوا:
“یاد رکھو! فاتح کبھی فرار اختیار نہیں کرتا، اور جو فرار اختیار کرے، وہ کبھی فاتح نہیں کہلا سکتا۔”
یہ حکایت اس امر کی زندہ شہادت ہے کہ حوصلہ، استقلال اور عملِ مسلسل ہی کامیابی کے زینے ہیں، اور مایوسی وہ دلدل ہے جو زندہ امیدوں کو بھی نگل لیتی ہے۔
