زندگی فی الاصل ایک نہایت لطیف المعانی، رنگ آمیز اور دل فریب تسبیحِ حیات ہے،
جس کی ہر دُر میں شکر، صبر اور سکینتِ قلبی کی چمک بطورِ جوہر منقوش ہے۔
ہماری آنکھیں اگر غفلت کی تہہ دار گرد سے پاک ہو جائیں
تو منکشف ہوتا ہے کہ زندگی کا اصل جمال
کسی عظیم الجثہ نعمت کے ہنگامہ خیز جلووں میں نہیں،
بلکہ ان نقیر و حقیر، خاموش و خفیف نوازشوں میں پوشیدہ ہے
جن کے درمیان ہم رہتے ہیں مگر انہیں محسوس کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔

1. گرم کھانے کی رکابی

ایک رکابی گرم طعام1
جس میں فقط سیرابی کا مفہوم نہیں،
بلکہ حلاوتِ طمانیت، نرمیِ سکون اور لطافتِ آسودگی کے دبیز پرت بھی شامل ہیں۔
یہ ایک لقمہ نہیں،
روح کے گہوارے پر رکھا گیا قرار کا مرہم ہوتا ہے۔

2. سر پر سایہ فگن چھت

وہ معمولی سی چھت2
جو محض بارش و بادِ سموم کے حملوں سے نہیں بچاتی،
بلکہ انسان کے باطن میں دبکے بیٹھے
بے خانگی، آوارگی اور عدمِ تحفظ کے خفیہ خوف کو بھی
اپنے اطمینان آمیز سائے میں دفن کر دیتی ہے۔

3. ربطِ عالم (وائی فائی)

وہ غیر مرئی رشتہ
جو فاصلے سمیٹ کر
تنہائی کے وحشت ناک غاروں میں
ایک انس انگیز، روشن کھڑکی کھول دیتا ہے۔
یہ محض سہولت نہیں،
بلکہ روح کے گرد لپٹی ہوئی تنہائی کی مہیب زنجیر کو نرم کر دینے والا ربط ہے۔

4. تن پوش لباس

ملبوس،
جو صرف سردی یا شرمندگی سے نہیں بچاتا،
بلکہ انسان کے وجود پر چھائی
کم مائیگی، عریانی اور بے چارگی کے احساس کو بھی
اپنی شائستہ تہوں میں چھپا لیتا ہے۔

5. نیم گرم پانی

وہ گرمجوش قطرے
جو بدن پر گرتے ہی
صرف گرمی نہیں بخشتے،
بلکہ ایک لطیف سا وقارِ شخصی، پاکیزگیِ وجود اور فرحتِ جاں بھی عطا کرتے ہیں۔

6. بجلی کی روشنی

وہ روشنی،
جو اندھیرے کی فقط نفی نہیں،
بلکہ دل میں بیٹھے
بے بسی، خوف اور بے نوری کے سائے بھی
اپنے نور میں تحلیل کر دیتی ہے۔

یہ سب دکھنے میں حقیر و معمولی سہی،
مگر حقیقت میں انہی چھوٹی چھوٹی نعمتوں کی کم آواز برکتیں
زندگی کے اصل حسن کی معمار ہوتی ہیں۔
وہ نوازشیں جنہیں ہم اپنی کوتاہیِ نظر کے باعث
اچٹتی نگاہوں سے گزر جاتے ہیں،
دنیا کے بے شمار لوگ انہی کے لیے
عمر بھر کی حسرت اور التجا لے کر جیتے ہیں۔

شکرگزاری کا مفہوم
ہمیشہ کسی عظیم نعمت کے حصول پر آشکار نہیں ہوتا؛
بلکہ کبھی کبھی
ان خسّت نظر میں چھپی خفیہ نوازشوں کی عظمت کو پہچاننے میں جاگتا ہے۔

زندگی واقعی خوبصورت ہے…
بس دل کو اس کے خاموش کرشمات دیکھنے کی بینائی چاہیے۔