چند روز قبل میں مری سے راولپنڈی کی جانب اپنی بائیک پر روانہ تھا۔ کلڈنہ کے قریب، ایک تھکے ماندہ، ژولیدہ حلیہ شخص نے ہاتھ بلند کر کے سواریکا کی درخواست کی۔ میں نے بائیک روکی اور مؤدبانہ استفسار کیا:
"بھائو، کس سمت روانہ ہیں آپ؟"
اس نے میری نگاہوں میں گھور کر، اندوہ و اضطراب سے لبریز لہجے میں کہا:
"پہلے یہ تو واضح فرمائیں… کیا آپ بائیک خود چلا رہے ہیں؟"
میں اس استفسار پر چند لمحے کے لیے حیرت زدہ ہوا، پھر ہلکی سی طمانیت بھری مسکان کے ساتھ کہا:
"نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔"
وہ پھر بول پڑا:
"چلیں، پھر ابتدا کریں اور فرمائیں، آپ کہاں روانہ ہیں؟"
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
"ابتدا تم بتاؤ، تمہیں کس جانب جانا ہے۔"
اس نے ایک آہ طویل و رقیق بھر کر کہا:
"بھائی… میں یہاں معاش کی تلاش میں آیا تھا، لیکن نصیب میں روزگار کی کرن نہ تھی۔ اب واپسی لازم ہے… جہلم۔"
میں نے غور و فکر سے اس کا مشاہدہ کیا۔ اس کے پاوں میں عام سا جوتا، ملبس میں گرد آلود آثار، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تھیلا جس میں غالباً دو جوڑے محدود ملبوسات تھے۔ اس کی آنکھیں نیند کی بھاری چادر میں لپٹی ہوئی تھیں، مگر ان میں شکست، مایوسی اور زندگی کی تلخ حقیقت کی شفاف عکاسی نمایاں تھی۔
میں نے کہا:
"میں راولپنڈی کی جانب روانہ ہوں، میرے ساتھ چلو۔"
راستے میں، میں نے استفسار کیا:
"تم نے یہ سوال کیوں کیا کہ کیا میں بائیک خود چلا رہا ہوں؟"
اس نے ہلکی سی شرمندگی کے ساتھ کہا:
"بھائی جان… جیب خالی ہے۔"
میرے دل میں ایک کسک اٹھی۔
پھر اس نے اپنی زندگی کے تلخ فسانے بیان کرنا شروع کیے۔ کبھی اس کے پاس اپنی گاڑی، گھر، زمینیں اور عزت تھی، لیکن ایک نزاع نے سب کچھ اجاڑ دیا، اور تھانے و عدالتوں کی راہوں میں گھومتے گھومتے ہر شے فروخت ہو گئی۔
اس نے آہ بھرتے ہوئے کہا:
"بھائی، یقین مانو… میں وہی تھا جو ماڑی روٹی تک نہ کھاتا… اور آج کل سے غذا سے محروم ہوں۔"
ٹریٹ کے مقام پر، میں نے بائیک روکی اور کہا:
"بھائی، میں بھی غذا تناول کرنے لگا ہوں، میرے ساتھ آؤ اور تم بھی کھاؤ۔"
وہ ابتدا میں جھجک رہا تھا، مگر جب میں نے کہا:
"تم میرے مہمان ہو… یہ میرے لیے باعث مسرت ہوگا،"
تو اس نے رضا مندی ظاہر کی۔
ہم نے اکٹھے غذا تناول کی۔ کھانے کے بعد، اس نے آہستہ، لیکن سنجیدہ لہجے میں کہا:
"بھائی، ایک نصیحت یاد رکھنا…
اس دہر میں عاجزی سے زیست گزارنا، میانہ روی سے کام لینا، اور انا کو پاوں تلے روندنا ہی حقیقی خرد مندی ہے۔ بدمعاشی، ضد، نزاع… کچھ نہیں عطا کرتی۔ اگر کوئی زیادتی کرے تو معاملہ اللہ پر چھوڑ دو، ورنہ انجام منظر عام پر آتا ہے، جیسا کہ میرے سامنے ہوا اور اب تمہارے سامنے بھی۔"
راولپنڈی پہنچ کر، میں نے اسے فیض آباد سے جہلم جانے والی گاڑی پر سوار کیا اور اپنے مسکن واپس آیا۔ شام کے سناٹے میں، اس کے افکار و اقوال ذہن میں گردش کرتے رہے۔
واقعی… ہم معمولی اختلافات کو انا کے مسائل بنا لیتے ہیں، اور نتیجہ وہی برآمد ہوتا ہے:
یا اپنی عزت، مال، وقت اور سکون سب کچھ تھانوں و عدالتوں میں بہا دیتے ہیں، یا زندگی کے کسی گوشے میں تھکے ماندہ و مایوس انسان کی طرح در در کی خاک چھاننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اس شخص نے جاتے ہوئے ایک جملہ کہا جو میرے دل و دماغ پر نقوش چھوڑ گیا:
"بھائی… صبر کرو، تحمل اختیار کرو، درگزر اپناؤ۔ بعض لوگ خود ہی برباد ہوتے ہیں، بعض انا کی آگ میں جل کر۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہمت، برداشت اور صبر عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔"
