شیخِ اجلّ، حضرتِ ابوُالوفا بن عقیلؒ روایت فرماتے ہیں کہ ایک روز ایک ندیمِ مکرّم نے نہایت حسرت آمیز لہجے میں ایک حکایت سنائی جس نے دلوں کے طاقچوں میں چراغ روشن کر دیے۔
فرمایا: شام کا دھندلکا اپنا دامَن پسار رہا تھا کہ ایک دوشیزۂ ناشاد ایک کنوارے کپڑا فروش کی دکان کی دہلیز پر آبیٹھی۔ نوجوان جب دکان کے پٹ بند کرنے کو ہوا تو اس کی نگاہ اُس غریبہ پر پڑی۔
وہ نہایت شائستگی سے بولا:
"اے خاتونِ محترمہ! اس ساعتِ گریزپا میں یہاں بیٹھنے کا ماجرا کیا ہے؟ کون سی آفتِ ناگہاں ہے جس نے تمہیں اس گوشے میں آ گھیرا؟"
عورت نے آہ بھر کر کہا:
"اے صاحب! میں گردشِ ایّام کی مار کھائی ہوئی مسکین ہوں۔ نہ مسکن ہے، نہ کوئی ماویٰ۔ کسی سایۂ عاطفت کی متلاشی ہوں۔"
نوجوان نے سراپا ہمدردی بن کر عرض کی:
"اگر تم چاہو تو میرے ہمراہ میرے مسکن تک چل سکتی ہو۔ کم از کم آج کی رات تو دستِ نگر نہ رہو۔"
عورت اس پر آمادہ ہوئی اور دونوں گھر کو روانہ ہوئے۔
چند گھڑیوں کی گفتگو نے دلوں کو قریب کر دیا، یہاں تک کہ نوجوان نے نہایت وقار سے کہا:
"اے بانو! کیوں نہ ہم عقدِ ازدواج میں منسلک ہو جائیں؟"
عورت نے بلا تردّد اس پیشکش کو قبول کیا۔
گواہان کو طلب کیا گیا، امامِ مسجد تشریف لایا، کچھ ساعتوں میں نکاح پڑھا گیا اور یوں دونوں رفاقتِ جاں و دل میں پیوست ہوگئے۔
تین شب و روز گزرے ہی تھے کہ چوتھے دن چند عورتیں اور ایک مرد، غائبانہ التفات لیے، اس نوجوان کے درِ خانہ پر آپہنچے۔
نوجوان نے برجستہ پوچھا:
"حضور! آپ کون ہیں اور کس غرض سے تشریف لائے ہیں؟"
وہ بولے:
"ہم اس خاتون کے اعزّہ و اقارب ہیں۔ اس کے چچا زاد، پھوپھا زاد، سبھی۔ جب یہ سنا کہ آپ نے ہماری برادری کی لڑکی کو سہارا دے کر عزّت کے ساتھ اپنا شریکِ حیات بنایا ہے تو دل ممنونیت سے لبریز ہوگئے۔ اب ہمارے خاندان میں ایک شادی ہے جس میں اس کی شرکت نہایت ضروری ہے۔ لہٰذا اجازت چاہتے ہیں کہ چند یوم کے لیے اسے لے جائیں۔"
نوجوان نے یہ ماجرا بیوی کے گوش گزار کیا تو اس نے فورا کہا:
"خبردار! ہرگز مجھے ان کے ہمراہ نہ بھیجنا۔
ان کے روبرو یہ قسم کھا لو کہ اگر میں ایک ماہ سے پیشتر اس آستانے سے قدم باہر رکھوں تو مجھ پر تین طلاق واقع ہوں۔ یہ لوگ مجھے ضرور بہکا کر واپس لے جانا چاہیں گے کہ میں نے ان کی رضامندی کے بغیر تم سے نکاح کیا تھا۔ نہ معلوم کس نے ہمارے پتے کی خبر ان تک پہنچائی!"
نوجوان باہر آیا اور بیوی کے مشورے پر عین اسی فقرے کے ساتھ قسم کھا لی۔
مہمان مایوس و دل شکستہ واپس ہوگئے۔
نوجوان حسبِ معمول دکان پر گیا مگر دل اضطراب و وسوسے کا شکار رہا۔
ادھر وہ عورت، جب اسے تنہا چھوڑا ہوا پایا، تو اس کے گھر سے کچھ لیے بغیر سرپٹ اپنے سابقہ گھر روانہ ہو گئی۔
جب نوجوان شام کو گھر پلٹا تو گھر سنسان پایا۔ تلاش شروع کی تو ایک پڑوسی نے بتایا کہ وہ خاتون تمہارا آشیانہ چھوڑ چکی ہے۔
شیخ ابو الوفاء فرمایا کرتے تھے:
"غالب گمان ہے کہ اس عورت نے اپنے سابق شوہر کے لیے حلال ہونے کی خاطر یہ پورا فتنہ انگیز منظر ترتیب دیا تھا، کیونکہ اسے پہلے شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں۔ پس لوگوں کو چاہیے کہ ایسے مکر و فریب کے دام میں نہ پھنسیں، اور زمانے کے حیلوں، چلتربازیوں اور رموزِ نفسیات سے آگاہ رہیں۔"
