ایک صاحبِ علم و فضل، جن کی گفتار میں وقار اور نگاہ میں استدلال کی جھلک تھی، ایک مٹھائی فروش کے ہاں تشریف لائے اور نہایت شائستگی سے گویا ہوئے:
"جناب، ایک کلو گلاب جامن تول دیجیے،
اس اہتمام سے کہ میزان بھی عدل پر نازاں ہو جائے۔"
دکاندار نے، جو فطرتاً جستجو پسند تھا، مودبانہ سوال کر بیٹھا:
"حضور! یہ جو آپ اہلِ مدرسہ منطق کا بڑا چرچا فرماتے ہیں، آخر اس کی حقیقت کیا ہے؟"

صاحب نے ذرا سا تبسم فرمایا، داڑھی کی نوک پر انگلی رکھی اور بولے:
"مٹھائی عنایت ہو جائے، تشریح ابھی کیے دیتا ہوں۔"
گلاب جامن ہاتھ میں آئے تو صاحب نہایت متانت سے رخصت ہونے لگے۔
دکاندار نے حسبِ دستور دام کا تقاضا کیا۔
یہ سن کر صاحب نے وقار سے رخ موڑا اور فرمایا:
"دام نہیں، اس کے عوض جلیبی مرحمت فرمائیے۔"
چنانچہ جلیبی بھی حاضر ہو گئی۔
اب صاحب جلیبی سنبھال کر آگے بڑھے تو دکاندار نے پھر ادب سے عرض کیا:
"حضور! اس کے دام؟"
صاحب نے حیرت آمیز سکون سے پوچھا:
"کس شے کے دام؟"
عرض ہوا:
"جلیبی کے!"
فرمایا:
"یہ تو گلاب جامن کے بدلے لی گئی تھی۔"
دکاندار نے کہا:
"تو پھر گلاب جامن کے دام ادا فرمائیے۔"
صاحب نے نہایت اطمینان سے جواب دیا:
"وہ تو واپس کیے جا چکے!" 😂
یہ سنتے ہی دکاندار پر ایسی کیفیت طاری ہوئی جیسے دلیل کے جواب میں دلیل نکل آئے اور سامع کی بساط لپٹ جائے۔

تب صاحب نے شفقت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا:
"جناب، یہی ہے وہ علم جسے منطق کہتے ہیں،
نہ ہاتھ سے پکڑی جاتی ہے، نہ پیٹ سے ہضم ہوتی ہے، مگر دماغ کو خاصی دیر تک مصروف رکھتی ہے۔"


اور جاتے جاتے نہایت سنجیدہ لہجے میں اضافہ فرمایا:
"عقل کے لیے منطق اور معدے کے لیے جلیبی،
دونوں اگر اعتدال میں ہوں تو نعمت، ورنہ مصیبت!" 😆