ممکنہ سرکشی کو فرو نشاندہی کرنے کے لیے مرتب کیا گیا وہ متنازع و مقدس صحیفہ، جس کی دنیا میں محض چار نایاب نقلیں باقی ہیں
تحریر: یوان فرانسسکو الونسو
تدوین: صوفی بھائی SuFi Lab
جب حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے دربارِ فرعون میں یہ صدائے حق بلند کی کہ
’’عبرانیوں کے خدا نے مجھے تمہارے حضور بھیجا ہے، تاکہ میں یہ پیغام دوں کہ میرے لوگوں کو بیابان میں جانے دو تاکہ وہ میری عبادت بجا لائیں‘‘
تو یہ محض ایک جملہ نہ تھا، بلکہ صدیوں کی غلامی کے خلاف ایک آہنی اعلان، ایک آسمانی بغاوت کا دیباچہ اور بنی اسرائیل کی نجات کی طویل و پرآشوب داستان کا آغاز تھا۔
وہی داستان جس میں عشرۂ آفات کی ہیبت ناک نشانیاں ہیں، بحرِ قلزم کے شق ہونے کا اعجاز ہے، اور غلاموں کے قدموں میں آزادی کی زنجیر نہیں بلکہ پرواز کی تمنا باندھی گئی ہے۔ یہی حکایات کتابِ مقدس کی سب سے شہرۂ آفاق اور روح فرسا کہانیوں میں شمار ہوتی ہیں۔
لیکن تاریخ کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ اٹھارہویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں بائبلِ مقدس کا ایک ایسا مسخ شدہ اور محذوف النسخہ منظرِ عام پر آیا، جس میں ’’خدا کے برگزیدہ لوگوں‘‘ کی نجات کی حکایت تو موجود تھی، مگر غلامی کے خلاف صدائے احتجاج، جبر کے خلاف اعلانِ بغاوت، اور انسانی وقار کی ہر صدا کو نہایت دیدہ دلیری سے کھرچ کر مٹا دیا گیا تھا۔
اس صحیفے کا اصل اور طویل العنوان نام تھا:
“Selected Portions of the Holy Bible for the Use of the Negro Slaves in the British West Indies”
یعنی
’’برطانوی ویسٹ انڈیز میں افریقی غلاموں کے استعمال کے لیے مقدس بائبل کے منتخب حصے‘‘
یہ متنازع نسخہ سنہ 1807ء میں لندن کی مطابع سے شائع ہوا۔
رفتہ رفتہ، جب اہلِ تحقیق و تدقیق کی نگاہیں اس کے مقاصد پر مرکوز ہوئیں، تو مؤرخین نے اسے ایک نئے اور لرزہ خیز نام سے موسوم کیا:
’’غلاموں کی بائبل‘‘
یہ نسخہ ایک مشنری جماعت کی کاوش تھا جسے
Society for the Conversion of Negro Slaves
کہا جاتا تھا۔ یہ چرچ آف انگلینڈ کی ایک ذیلی شاخ تھی، جس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ کیریبین کی برطانوی نوآبادیات میں گنے کے کھیتوں پر جتے ہوئے افریقی غلاموں کو مسیحی عقیدے سے آشنا کرنا چاہتی ہے—مگر حقیقت میں یہ عقیدہ، اطاعت کی زنجیر میں ڈھالا گیا تھا۔
برطانوی ماہرِ الٰہیات، ڈاکٹر رابرٹ بیکفورڈ، اس بابت نہایت صراحت سے فرماتے ہیں:
’’یہ بائبل غلاموں کی روحانی تسکین کے لیے نہیں، بلکہ ان پر ذہنی تسلط قائم رکھنے کے لیے مرتب کی گئی تھی۔‘‘
ان کے بقول،
’’اس نسخے سے عہدِ قدیم (Old Testament) کا تقریباً نوّے فیصد اور عہدِ جدید (New Testament) کا ساٹھ فیصد حصہ یک قلم خارج کر دیا گیا۔ حضرتِ موسیٰ کی مکمل داستان،
جو غلامی کے خلاف سب سے طاقتور بیانیہ تھی،
بالکل محو کر دی گئی۔ حتیٰ کہ ہر وہ آیت حذف کر دی گئی جو آزادی، نجات یا انسانی وقار کی بو بھی دیتی تھی۔‘‘
واشنگٹن ڈی سی کے معروف ادارے میوزیم آف دی بائبل کے ڈائریکٹر، انتھونی شمٹ، نے بھی اسی موقف کی توثیق کی۔ ان کے مطابق سنہ 2017ء میں اس نایاب نسخے کی ایک کاپی عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھی گئی تھی۔
شمٹ کہتے ہیں:
’’یہ بائبل نہ صرف مختصر تھی بلکہ مخصوص طبقے کے لیے نہایت سوچ سمجھ کر تراشی گئی تھی۔ اس میں سے پورے پورے ابواب غائب ہیں۔‘‘
اگرچہ تاریخ میں مختصر اور سادہ بائبل کے نسخے موجود رہے ہیں،
مثلاً بچوں کے لیے تصویری بائبل،
لیکن شمٹ کے بقول:
’’غلاموں کی بائبل کا معاملہ یکسر مختلف تھا؛ اس کا مقصد تعلیم نہیں بلکہ اطاعت پیدا کرنا تھا۔‘‘
ان کا کہنا ہے کہ مرتبین کو اندیشہ تھا کہ حضرتِ موسیٰ کی داستان اتنی ولولہ انگیز ہے کہ کہیں غلاموں کے دلوں میں آزادی کی چنگاری نہ بھڑکا دے۔
چنانچہ کتابِ خروج کا بیشتر حصہ حذف کر دیا گیا، اگرچہ بعض مقامات پر موسیٰ کا نام باقی رہنے دیا گیا،
گویا سایہ رکھا گیا مگر سورج چھین لیا گیا۔
جہاں ایک عام پروٹیسٹنٹ بائبل میں 66 کتابیں، کیتھولک میں 73 اور مشرقی آرتھوڈوکس میں 78 کتابیں شامل ہوتی ہیں، وہاں غلاموں کی بائبل محض 14 کتابوں پر مشتمل تھی۔
ڈاکٹر بیکفورڈ کے مطابق، اس نسخے کی اشاعت کا وقت اس کے مقصد کو پوری طرح آشکار کر دیتا ہے۔
سنہ 1807ء میں، جب برطانوی پارلیمنٹ نے غلاموں کی تجارت پر پابندی عائد کی، عین اسی برس یہ بائبل شائع ہوئی،
حالانکہ خود غلامی کا ناسور مزید تیس برس تک برقرار رہا۔
ان کے بقول:
’’غلاموں کو محض کوڑوں سے نہیں قابو میں رکھا جا سکتا تھا؛ ایک نظریاتی شکنجہ بھی درکار تھا، اور اس دور میں بائبل اس مقصد کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار تھی۔‘‘
چنانچہ پولوس رسول کے خط افسیوں جیسی آیات، جن میں غلاموں کو آقاؤں کی اطاعت کا درس دیا گیا تھا، نہایت اہتمام سے شامل رکھی گئیں۔
ڈاکٹر بیکفورڈ نہایت تلخی سے کہتے ہیں:
’’اس بائبل کا مقصد غلام افریقیوں کو یہ یقین دلانا تھا کہ ان کی محکومی خدا کی مرضی ہے۔‘‘
آج اس متنازع مقدس نسخے کی دنیا میں محض چار کاپیاں باقی ہیں،
ایک فِسک یونیورسٹی، نیش وِل میں، اور دو آکسفورڈ و گلاسگو کی جامعات میں محفوظ ہیں۔
یہ بائبل محض ایک کتاب نہیں، بلکہ تاریخ کے سینے پر ثبت وہ گواہی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ جب مذہب کو اقتدار کا خادم بنا دیا جائے، تو وہ ہدایت نہیں بلکہ ہتھکڑی بن جاتا ہے۔
