ایک زمانہ وہ بھی گزرا کہ دیارِ امریکہ کے ہوائی دروازوں پر ایسی کڑی نگرانی روا رکھی جاتی تھی گویا ساری دنیا بدذات چور و بدمعاش ہو اور صرف اہلِ امریکہ ہی وقار و حرمت کے تاجدار۔
ہر آتے جاتے مسافر کی ٹوپی، دستار، جوتے، حتیٰ کہ جراب تک معائنے کے نام پر اتروائی جاتی؛ صف بندی ایسی کہ گویا انسانوں کا قافلہ نہیں، محکوم غلاموں کی قطار ہو۔
انہی ایّام میں ایک برازیلی تاجر، جو عرصۂ دراز سے رفت و آمد کا خوگر تھا، اس غضب ناک ماحول سے نہایت ملول ہوا۔ اُس نے یہ پامالیِ اکرام و اہانتِ بشر پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ جب باری بہ باری اس کے قریب نوبت پہنچی اور امیگریشن افسر نے نہایت بے اعتنائی سے حکم صادر کیا کہ
"جوتے اتارو!"
تاجر نے بڑے سکون مگر غیرت بھرے لہجے میں انکار کر دیا۔
افسر نے اپنی جبّاری طبیعت کے موافق اس کا پاسپورٹ چھینا اور اس پر "ڈی پورٹ" کی مہر ثبت کر دی؛ یوں گویا اسے بے آبرو کر کے وطن واپس بھیج دیا۔
برازیل پہنچتے ہی اُس غیرت مند تاجر نے ایک پژمردہ مظلوم کی طرح خاموش نہ بیٹھا، بلکہ پریس کانفرنس طلب کی— اور پوری روداد عوام کے سامنے رکھ دی۔ اس کھری بات نے گویا آگ لگا دی۔
حکومتِ برازیل نے فوراً سفیرِ امریکہ کو طلب کیا اور تمام ماجرا اس کے گوش گزار کیا۔
امریکہ نے اسے "روٹین کی تفتیش" کا نام دے کر ٹالنے کی کوشش کی، مگر برازیلی پارلیمنٹ میں اس معاملے نے ہنگامہ بپا کر دیا۔
پارلیمنٹ نے جلیل القدر فیصلہ صادر کیا کہ:
"جس امریکی نے برازیلی سرزمین پر قدم رکھا، اُس کی وہی تلاشی ہوگی جو امریکہ ہمارے شہریوں کی لیتا ہے۔"
اور یہ حکم اگلے ہی صبح نافذ ہو گیا۔
اب معاملہ الٹ چکا تھا،
امریکی حکومت بوکھلائی، احتجاج پر احتجاج کیے، مگر برازیل نے نہایت حسین و بامروّت لہجے میں جواب دیا:
"جناب! یہ تو ہماری ‘معمول کی کارروائی’ ہے۔"
یوں 2002 سے 2006 تک دنیا میں صرف ایک ملک تھا جہاں صرف ایک قوم کی باقاعدہ تلاشی ہوتی تھی،
اور وہ قوم تھی امریکہ۔
آخرِ کار امریکہ نے شرمندہ ہو کر معافی طلب کی، تب جا کر یہ باب بند ہوا۔
ہائے! یہ ہے غیرت مندی، یہ ہے عزیمت و وقار!
مگر ہمارے بعض حکمران—جو خیرات اور دستِ سوال دراز رکھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں،
انہوں نے قومِ پاکستان کو دنیا بھر میں اس طرح رسوا کیا کہ گویا ہنوز ہم بھیک کی پٹاری کے محتاج ہوں۔
اور یاد رکھیے:
بھکاری کی دنیا میں کوئی قدر نہیں ہوتی، کوئی عزت نہیں ہوتی۔
