منگنی کے ایّام میں ایک روز، یونہی ہنسی مذاق کے پیرایے میں، میں نے موصوف سے دریافت کر لیا:
“قبلہ! آپ ناشتے میں کیا تناول فرمانا پسند کرتے ہیں؟”
فرمانے لگے، نہایت سادگی مگر پورے وقار کے ساتھ: “کبھی روٹی، کبھی پراٹھا۔”
میں نے ذرا ابرو چڑھا کر، گویا عدالتِ عالیہ میں جرح کر رہی ہوں، پوچھا: “اور تعداد؟”
کہنے لگے: “کبھی تین، کبھی چار۔”
یہ سننا تھا کہ میرے دیدۂ حیرت سے گویا شعلے برسنے لگے، کلیجہ اچھل کر حلق میں آ اٹکا اور دل ہی دل میں بے ساختہ صدا بلند ہوئی: “اَللّٰہ اَللّٰہ! یہ تو گویا سیری نہیں، اجتماعی دعوت پر تشریف لاتے ہوں!”
چنانچہ میں نے نہایت رنج و افسوس کے عالم میں یہ اندوہناک خبر اپنے بہن بھائیوں تک بھی پہنچا دی کہ “بھئی، ہمارے نصیب میں تو ایک ایسے شکم پرور کا آنا لکھا ہے جو صبح ہی صبح تین چار پراٹھے صفا کر جاتا ہے!”
اس لیے کہ ہمارے گھرانے میں تو مردانِ خانہ بھی بمشکل ایک پراٹھے پر قناعت فرما لیتے تھے، اور وہ بھی اکثر آدھا چھوڑ کر۔
بہرکیف، ایّام کی گردش نے رنگ دکھایا، اور منگنی شادی کے ہنگاموں میں تبدیل ہو گئی۔
چند روز بعد، جب میں منصبِ زوجیت پر فائز ہو کر ان کے لیے ناشتہ تیار کرنے بیٹھی، تو میں نے خاص اہتمام سے چار عدد پراٹھے تیار کیے، ایسے کہ دیکھنے والے کی بھوک بھی ایمان لانے لگے۔
میں ناشتہ سجا کر لے گئی، بڑے فخر اور فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ۔
موصوف نے ایک پراٹھا تناول فرمایا، پھر دسترخوان سے ہاتھ کھینچ لیا۔
میں نے فوراً، قدرے تشویش اور قدرے طعن کے ملے جلے لہجے میں عرض کیا: “ارے! آپ اور کیوں نہیں کھاتے؟ آپ تو چار پراٹھے کھایا کرتے ہیں، اسی لیے تو میں نے پورے چار بنا ڈالے ہیں!”
اس پر انہوں نے نہایت محبت آمیز انداز میں، مگر دانتوں کو اس طرح پیستے ہوئے کہ معلوم ہوتا تھا ابھی کسی پراٹھے پر غصہ نازل ہو جائے گا، فرمایا: “بیگم… ذرا اپنے پراٹھے دا سائز وی ویکھ لَیا کرو!”
یہ سننا تھا کہ میری ساری خودساختہ تشویش، سارا فخریہ بیان، اور ساری شکم پروری کی داستان ایک ہی لمحے میں ہوا ہو گئی، اور میں اندر ہی اندر ہنستی ہوئی اعتراف پر مجبور ہو گئی:
“واقعی… حق تو بنتا ہے!” 😁
