انسانوں کی بستی میں کچھ ایسے بھی نفوس پائے جاتے ہیں جن کے باطن میں عرفانِ قدر کی ادنیٰ سی لَو بھی سلگتی نہیں۔
آپ اُن پر محبّت کے دریا بہا دیجئے،
انہیں تلطّف و مساہمت کی باریک ریشمی تہوں میں لپیٹ دیجئے،
یا اُن کے عتاب و ملامت کو تحمّل و بردباری کی زر بفت چادر میں چھپا دیجئے،
تب بھی اُن کے سینے میں امتنان کی کلی نہ کِھلتی ہے۔

مدّتوں تک میں ایسے ہی چند اصحاب کے روبرو
تواضع، نیاز مندی، فروتنی اور مسکنت کی کامل تصویر بنا رہا۔
ہر موضع پر “جی حضور” کی بے ریش آواز،
ہر موڑ پر فدویت و انقیاد کی صورت گری،
اور ہر مرحلے میں اپنی ذات کو محوِ فنا کر کے اُن کے التفات کا امیدوار رہنا،
مگر افسوس کہ اُن کی طبیعتوں میں کدورت، بے مروّتی اور ناسپاسی کے سوا کچھ نہ تھا۔

ایک شب ضمیر نے نہایت حکیمانہ سرگوشی کی:

“اے سادہ دل! ایسے لوگوں کی ثقالت کیوں برداشت کرتا ہے
جن کے حواس میں تمہاری توقیر کا شائبہ تک نہیں؟
کیا اپنی خودداری کا خمیر بالکل ہی بکھیر بیٹھا ہے؟”

یہ جملہ میرے باطن میں یوں گونجا
جیسے کسی وسیع گنبد میں نقّارے کی ضرب۔

میں نے دل کے آئینے کو جھاڑ پونچھ کر
اپنی حقیقت کا عکسِ صریح دیکھا؛
پھر یکایک سمجھ آیا کہ وہ ساری نرمی محض
عادتِ دل نوازی تھی،
نہ کہ کوئی واجب الادا فرائض کی فہرست۔

چنانچہ ایک روز میں نے شہر کے بے ہنگم شوروغل سے دامن بچا کر
ایک سادہ طبع فقیر کی رفوف نشینی میں بیٹھنا پسند کیا۔
مٹی کی پُرفقیرانہ تھالی میں بچا کھچا نوالہ،
اور اُس کے چہرے پر استغنا و بے نیازی کی مطمئن روشنی،
اس نے میرے قلب پر ایسی سکینہ آمیز نسیم چلائی
کہ روح میں دیرینہ اضطراب کی گرہیں کھلتی چلی گئیں۔

وہ فقیر زیرِ لب گویا ہوا:

“صاحب! پیاسا ہمیشہ کنویں کی دہلیز پر آتا ہے؛
کنواں کبھی پیاسے کی جستجو میں روانہ نہیں ہوتا۔”

پھر اُس نے میرا ہاتھ تھام کر کہا:

“تم کنواں نہیں ہو کہ اپنی جگہ ساکن پا‌بند رہو؛
تم تو دریا کی مُرسل روانی ہو،
بلکہ اس سے بڑھ کر،
بحرِ بے کراں کی ساکت گہرائی!”

اس لمحے ایک انوارِ باطنی کی برکھا سی برس گئی۔
میں نے ناسپاس چہروں سے کنارہ کشی اختیار کر لی،
اور عجب تماشا یہ کہ مدت نہ گزری تھی کہ
اُنہی چہروں میں شرمندگی کی دھندلی لکیریں اُبھرنے لگیں۔

یوں مجھ پر حقیقت نے پردہ اٹھایا کہ:

“عزتِ نفس وہ جو خود سے جنم لے؛
جو اپنی قدر نہیں برتتا، زمانہ بھی اُس کی توقیر نہیں کرتا۔
اور جو خود کو مکرم جانے، دنیا اُسے معتبر ماننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔”