ہوٹل کے گوشۂ طعام میں دو حضرات محوِ گُفتگو تھے۔ ایک نے دوسرے کی طرف جھک کر نہایت عجب آمیز لہجے میں کہا:
"میاں! یہ ہوٹل کا بالک تو ایسا سادہدل اور کمفہم ہے کہ اگر میں اس کے سامنے پانچ سو کا نوٹ اور پچاس کا چرّھہ رکھ دوں تو ہمیشہ کمقیمت نوٹ ہی سمیٹے گا۔"
یہ کہہ کر اُس نے بچے کو آواز دی، جیب سے دو نوٹ نکال کر میز پر یوں رکھ دیے جیسے کوئی بازیگر تماشائیوں کے سامنے کرتب دکھاتا ہے، اور بولا:
"لے بھئی! اِن میں سے زیادہ قیمت والا نوٹ اُٹھا لے۔"
بالک نے حسبِ معمول پچاس کا نوٹ اٹھایا، اور دونوں صاحبان نے ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھ کر قہقہہ لگایا۔ بچہ خاموشی سے پلٹ کر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
قریب بیٹھے ایک سمجھ دار شخص نے اُن کے رخصت ہوتے ہی بچے کو بلایا اور شفقت بھرے انداز میں پوچھا:
"پُتر! تم تو اب کافی بڑے ہو گئے ہو۔ کیا تمہیں پچاس اور پانچ سو کے نوٹ میں امتیاز بھی معلوم نہیں؟"
یہ سنتے ہی بچے کے ہونٹوں پر ایک معنی آشنا، نیمتبسم نما مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ آہستہ سے بولا:
"صاحب! وہ جناب اکثر اپنے یاروں کے سامنے میری’’بو دکھانا‘‘ پسند کرتے ہیں۔ میرا پچاس کا نوٹ اُٹھانا اُن کی تفریحِ طبع بن جاتا ہے، اور مجھے روزی کا ایک چھوٹا سا سہارا بھی مل جاتا ہے۔ جس روز میں نے پانچ سو والا نوٹ چن لیا، اُسی روز یہ تماشا بھی تمام ہو جائے گا اور میری یہ معمولی سی آمدنی بھی سلب ہو جائے گی۔"
پھر اُس نے نہایت متین لہجے میں کہا:
"زندگی بھی کسی تماشے سے کم نہیں۔ ہر مقام پر دانائی جتانے کی حاجت نہیں ہوتی۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ عقلمندی دکھانے سے آدمی کی اپنی خوشیاں مجروح ہو جاتی ہیں۔ ایسے مواقع پر بھولا بن جانا ہی دراصل اصل دانائی ہوتی ہے۔"

